شاہین بنگلادیش کیخلاف کیوں اسکواڈ میں شامل نہیں، وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
قومی ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کی بنگلادیش کیخلاف سیریز سے ازخود دستبردار ہونے کی اطلاعات ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین آفریدی نے بنگلادیش کے دورہ سے چند روز قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اعلیٰ عہدیدار سے رابطہ کرکے کہا تھا کہ وہ آرام کرنا چاہتے ہیں۔
شاہین کا کہنا تھا کہ میری جگہ بنگلادیش کیخلاف سیریز میں کسی نوجوان کھلاڑی کو صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا جائے۔
مزید پڑھیں: پاک بنگلادیش سیریز؛ نظرثانی شدہ شیڈول کا اعلان ہوگیا
قبل ازیں گزشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلادیش کیخلاف 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا تھا، جس میں حیران کُن طور پر بابراعظم، محمد رضوان، شاہین شاہ آفریدی کے نام شامل نہیں تھے۔
مزید پڑھیں: بنگلادیش کیخلاف پاکستان کے اسکواڈ کا اعلان، بابراعظم، رضوان پھر باہر
اسی طرح پی ایس ایل میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود سفیان مقیم کو کمزور حریف بنگلادیش کیخلاف موقع نہیں دیا گیا تھا، جس پر فینز نے سلیکشن کمیٹی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنگلادیش کیخلاف
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔