پاکستان کے لوگ بہترین اور رہنما عظیم ہیں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لوگ بہترین اور اس کے رہنما عظیم ہیں، بھارت میں میرا دوست مودی ہے۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں جنوبی افریقا کے صدر سرل رامافوسا سے ملاقات کی، دوران ملاقات صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تعریف کی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ بڑے معاہدے کر رہے ہیں، ان کے درمیان جنگ بندی کرائی ہے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ میں نے ان دونوں ممالک سے کہا کہ تم لوگ کیا کر رہے ہو، دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ بڑے سے بڑا، گہرے سے گہرا اور بدترین ہوتا جا رہا تھا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے جنوبی افریقی صدر سے ملاقات کے دوران ان پر سفید فام اقلیت کی نسل کشی کا الزام لگایا۔
ٹرمپ نے جنوبی افریقی صدر سیرل رامافوسا کے ساتھ ملاقات کے دوران ان پر الزام عائد کیا کہ جنوبی افریقا میں سفید فام افراد کی نسل کشی ہو رہی ہے۔
ٹرمپ نے دستاویزات جس میں کچھ تصاویر شامل تھیں جنوبی افریقی صدر اور صحافیوں کو سفید فام اقلیت کی نسل کشی کے ثبوت کے طور پر دکھائیں اور کہا کہ سفید فام کسان جنوبی افریقا سے بھاگ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سفید فام
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔