بڑے ترقیاتی منصوبے شروع، جرائم پیشہ افراد کیخلاف بے رحمانہ آپریشن کرینگے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن)کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں آپریشن بنیان مرصوص کے شہداء کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ارکان اسمبلی کو پہلے جامع اور منفرد بیوٹی فکیشن پلان اور ہر پراجیکٹ کے بارے میں خودتین گھٹنے طویل بریفنگ دی۔ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے بتایا کہ بیوٹی فکیشن پلان کے تحت ہر ڈسٹرکٹ کے بازاروں میں لٹکتے بے ہنگم بجلی کے تار انڈر گراؤنڈ کیے جائیں گے۔ ہر ڈسٹرکٹ اور تحصیل میں ریڑھی بازار قائم ہوگا اور مختلف شہروں میں کینالز کو بھی سجایا جائے گا۔ بیوٹی فکیشن پلان کے تحت بازاروں کی ری ماڈلنگ، انفراسٹرکچر میں بہتری لائی جائے گی اور فوڈ سٹریٹ بھی قائم کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان اسمبلی سے ان کی نشستوں پر جا کر ملاقات کی اور ارکان اسمبلی سے حال احوال دریافت کیا۔ ارکان اسمبلی نے قائد محمد نواز شریف، وزیر اعظم محمد شہباز شریف اورفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ ارکان اسمبلی نے بیک وقت 80 سے زائد بڑے ڈویلپمنٹ پراجیکٹ شروع کرنے پر وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں صوبہ بھر میں نئے پراجیکٹس لانے کے اعلانات کیے۔ صوبہ بھر میں پنجاب ڈویلپمنٹ پلان لانے کا اعلان کیا۔ 60- شہروں میں پنجاب ڈویلپمنٹ پراجیکٹ اسی سال مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کے 800 گاؤں کو بتدریج ماڈل ویلج بنانے کا اعلان کیا۔ ارکان اسمبلی کی مشاورت سے دیہات میں 400کلو میٹر چھوٹی رابط سڑکوں کی تعمیر و توسیع کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے اگلے سال سے سڑکوں کی تعمیر و توسیع کیلئے ڈھائی سو ارب کے فنڈز دینے کا اعلان کیا۔ اجلاس میں 1100 الیکٹرک بسیں پنجاب کے تمام اضلاع کو دینے کا اعلان کیا۔ سال کے آخر تک ایک لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں میٹرو بس سروس جلد شروع کرنے کا اعلان کیا۔ لاہور کینال روڈ پر اے آر ٹی ٹرانسپورٹ پراجیکٹ بھی جلد شروع کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پنجاب بھر میں نادار اور ضرورت مندوں کے لئے راشن کارڈ جلد لانچ کرنے کا اعلان کیا۔ ہر بڑے شہر میں واسا قائم کرنے کا اعلان کیا۔ ہرڈویژن میں سینٹر آف ایکسی لنس کنڈرگارٹن کیمپس بنانے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو وعدہ کروں گی پورا کروں گی۔ تجاوزات کے خاتمے سے صوبہ بھر میں بازار کھلے اور عوام خوش ہیں۔ پنجاب کے دور دراز علاقوں میں پانی کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ ستھرا پنجاب کو روز بروز بہتر سے بہترین بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ شہروں کے بعد پہلی مرتبہ گاؤں کو بھی صفائی پروگرام میں شامل کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ کوئی ڈسٹرکٹ یا تحصیل بیوٹی فکیشن پلان سے محروم نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف بے رحمانہ آپریشن کریں گے۔ شرپسند عناصر پنجاب میں نہیں ٹھہر سکیں گے۔ چند ماہ میں پنجاب کے سب شہر سیف سٹی ہوں گے۔ پنجاب میں مؤثر اینٹی نارکوٹکس فورس کو متحرک کردیا گیا۔ بے زبان جانوروں کے تحفظ کی بھی مؤثر مہم جاری ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ 8ہزار پر مشتمل پیرا فورس انسداد تجاوزات، پرائس کنٹرول اور دیگر امور کے لئے کام شروع کرنے کے لئے تیار ہے۔ لاہور ڈویلپمنٹ پلان کے تحت6 ہزار گلیاں، سیور اور واٹر ٹینک وغیرہ بن رہے ہیں۔ عوام کا پیسہ اب عوام پر ہی خرچ ہورہا ہے۔ ایک ایک پیسہ عوام کی امانت ہے، سوچ سمجھ کر خرچ کرنا ہے۔ نیک نیتی سے کام کررہے ہیں، اللہ تعالیٰ ضرور اجر دے گا۔ رمضان پیکج کی شفافیت کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ عوام کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کا مفاد بھی پیش نظر ہے۔ لاہور میں 450 کلومیٹر تک سیور لائن ڈالی جارہی ہے۔ معاون خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے عام آدمی کی بھلائی کے اقدامات کو سراہا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس میں رکن پنجاب اسمبلی ارشد وڑائچ مرحوم اور ایم پی اے فیصل کے والد مرحوم کے لئے بھی دعا مغفرت کی گئی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بدھ کو وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں درج ذیل متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ اجلاس بھارت کی پاکستان کے خلاف جارحیت اور بلاجواز جنگ مسلط کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس میں معصوم بچوں، خواتین سمیت پاکستان کے عام شہریوں، مساجد کو شہید کیاگیا۔ اجلاس اپنی بہادر مسلح افواج کو سلام پیش کرتا ہے جس نے 6 اور 7 مئی اور پھر 10 مئی کو آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے دشمن کا جدید ہتھیاروں اور جنگی جنون کا غرور خاک میں ملا دیا۔ اجلاس چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحرشمشاد مرزا، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف سمیت پاک فوج کے افسران، جوانوں، انٹیلی جنس اداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جن کی عسکری مہارت اور دفاع وطن کے بے مثال جذبے سے پاکستان اور چوبیس کروڑ پاکستانی سربلند ہوئے۔ اجلاس پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد جناب محمد نوازشریف کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جنہوں نے تاریخ کے اس نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر وفاقی حکومت کی راہنمائی کی اور اپنے تجربے کی روشنی میں مسلسل مشاورت سے دفاع وطن اور قومی مفادات کے تحفظ میں اپنا گراں قدر حصہ ڈالا۔ اجلاس وزیراعظم محمد شہبازشریف کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہے جنہوں نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے، معاشی اور سیاسی استحکام لانے اور بھارت کی مسلط کردہ جنگ کے دوران دفاع وطن کے تقاضے نبھانے میں تاریخی قائدانہ کردار ادا کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خضدار میں سکول بس پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ مریم نواز شریف نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی۔ مریم نواز شریف نے رحیم یار خان کے قریب ٹریفک حادثے میں چار مسافروں کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور خضدار میں اسکول وین پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کواس مشکل گھڑی میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے ہیٹ ویو کے پیش نظر ملتان اور بہاولپور ڈویژن میں الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی اور بچوں کو گھر میں محدود رکھنے‘ تمام سرکاری و نجی سکولوں میں اوپن ایئر سرگرمیاں معطل‘ تمام کلاس روم میں کم از کم پنکھے فنکشنل کرنے اور ڈریس کوڈ میں نرمی برتنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے ہر سکول میں فرسٹ ایڈ باکس کی موجودگی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پنجاب مریم نواز شریف کرنے کا اعلان کیا مریم نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ مریم نوازشریف نے پارلیمانی پارٹی خراج تحسین پیش ارکان اسمبلی پیش کرتا ہے وزیر اعلی اجلاس میں نے کہا کہ پنجاب کے کے لئے
پڑھیں:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔
کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔
کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔
مزید :