پائیدار اور مستقل امن کیلئے بات چیت ضروری ہے، پی ڈی پی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدر نے ایک پائیدار اور مستقل امن عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی استحکام، ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے بات چیت اور مفاہمت بہت ضروری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے ایک پائیدار اور مستقل امن عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی استحکام، ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے بات چیت اور مفاہمت بہت ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ڈی پی کے نائب صدر محمد سرتاج مدنی نے سوپور میں ایک اہم تنظیمی اجلاس کی صدارت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صرف بات چیت سے ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے اپنے وعدے پر قائم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔