ہائی پاور سلیکشن بورڈ میں گریڈ 22میں ترقی سے متعلق کیس میں فریقین سے دلائل طلب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہائی پاور سلیکشن بورڈ میں گریڈ 22میں ترقی سے متعلق کیس میں فریقین سے دلائل طلب کر لئے اور وفاقی حکومت سے افسران کی گریڈ22 میں ترقیوں سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم پاکستان اعلیٰ ترین افسران کی تعیناتی کسی اور کے سپرد کر سکتے تھے؟ اگر افسران کی فائلز پرانے رولز کے تحت تیار کی گئیں تو نئے قوانین کا اطلاق کیسے ہوگا؟نئے رولز میں ترامیم کا اطلاق پرانی ترقیوں پر کیسے ہو سکتا ہے؟
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ہائی پاور سلیکشن بورڈ میں گریڈ22میں ترقی سے متعلق فیصلوں کو چیلنج کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی،گریڈ22میں ترقی سے متعلق فیصلوں کی آئینی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے سماعت کی،سابق سیکرٹری اطلاعات سہیل علی خان، شاہ بانوغزنوی اور دیگر افسران کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،درخواست گزاروں کے وکلا بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی، شعیب شاہین اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔
پاکپتن،شادی سے انکار پر نوجوان نے خاتون کو قتل کردیا،ملزم فرار
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم پاکستان اعلیٰ ترین افسران کی تعیناتی کسی اور کے سپرد کر سکتے تھے؟اگر افسران کی فائلز پرانے رولز کے تحت تیار کی گئیں تو نئے قوانین کا اطلاق کیسے ہوگا؟نئے رولز میں ترامیم کا اطلاق پرانی ترقیوں پر کیسے ہو سکتا ہے؟کیا بورڈ نے ترقیوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں اختیارات استعمال کیا، بورڈ افسران کی قابلیت کو کس پیمانے پر جانچنا ہے؟عدالت نے فریقین سے دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت جمعہ 30مئی تک ملتوی کردی اور وفاقی حکومت سے افسران کی گریڈ22 میں ترقیوں سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا۔
معید پیرزادہ کے پاکستان سے بھاگنے اور امریکہ میں جائیدادوں کی کہانی لیکن یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ سینئر تحقیقاتی صحافی نے بھانڈا پھوڑ دیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔