’سب کام شہری کریں تو آپ کیا کریں گے‘، جرم سے متعلق شہریوں سے مدد لینے پر راولپنڈی پولیس پر شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں شہریوں کو مرغا بنا کر تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے، تشدد کرنےوالا شخص شہریوں کے ساتھ گالم گلوج بھی کرتا رہا۔
وائرل ویڈیو کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ معروف ٹک ٹاکر فرخ کھوکھر کا ڈیرہ ہے جو شہریوں پر تشدد کے لیے استعمال ہونے لگا ہے۔ ویڈیو میں تشدد کرنے والے شخص کی شناخت عتیق بٹ کے طور پر کی گئی ہے، جو مبینہ طور پر فرخ کھوکھر کا فرنٹ مین بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ نے شہری پر تشدد کے بعد معافی مانگ لی
ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد صارفین پولیس سے کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے۔ جس پر راولپنڈی پولیس نے سماجی رابطوں کی سائیٹ ایکس پر موقف دیتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی پولیس نے ویڈیو کی بابت فوری تحقیقات عمل میں لائیں، ویڈیو مذکورہ لوکیشن کی نہیں پائی گئی ہے، اور نہ ہی یہ واقعہ تاحال پولیس کورپورٹ کیاگیاہے۔
پولیس کا مزید کہنا تھا کہ تشدد و ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں، آپ متاثرہ افراد کی رابطہ تفصیلات ہمارے ساتھ شئیر کریں تاکہ قانونی کاروائی کویقینی بنایاجائے۔
راولپنڈی پولیس نے ویڈیو کی بابت فوری تحقیقات عمل میں لائیں، ویڈیو مذکورہ لوکیشن کی نہ پائی گئی ہے، اور نہ ہی یہ واقعہ تاحال پولیس کورپورٹ کیاگیاہے۔ تشدد و ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں، آپ متاثرہ افراد کی رابطہ تفصیلات ہمارے ساتھ شئیر کریں تاکہ قانونی کاروائی کویقینی بنایاجائے۔
— Rawalpindi Police (@RwpPolice) May 21, 2025
راولپنڈی پولیس کے اس موقف کے بعد شہری ان پر شدید تنقید کرتے نظر آئے۔ علی حسین نامی صارف نے لکھا کہ اگر عوام نے ہی سب کچھ کرنا ہے تو آپ کس چیز کی تنخواہ لے رہے ہیں۔ ویڈیو میں صاف ظاہر ہے کہ ایک بدمعاش نے عدالت لگائی ہوئی ہے 2 لوگوں کے اوپر تشدد کر رہا ہے اور تمام چہرے بالکل صاف نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو کاراوئی کرنے سے پر جلتے ہیں؟
جناب! اگر عوام نے ہی سب کچھ کرنا ہے تو آپ کس چیز کی تنخواہ لے رہے ہیں۔ ویڈیو میں صاف ظاہر ہے کہ ایک بدمعاش نے عدالت لگائی ہوئی ہے دو لوگوں کے اوپر تشدد کر رہا ہے اور تمام چہرے بالکل صاف نظر آرہے ہیں۔ کہ پولیس کو کاراوئی کرنے سے پَر جلتے ہیں؟
— Ali Hussain (@aly_husein) May 21, 2025
ایک صارف نے لکھا کہ ویڈیو میں تشدد کرنے والا بندہ نظر نہیں آ رہا کیا؟ اور کیا اس کو ڈھونڈنا اتنا مشکل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جو اس طرح مار رہا ہے وہ یقینی طور پر مشہور شخص ہو گا۔ اور پولیس کو ویسے ہی معلوم ہو گا مگر آپ کروائی کرنا نہیں چاہتے۔
بندہ نظر نہیں آ رہا کیا؟ اتنا مشکل ہے ڈھونڈنا۔
جو اس طرح مار رہا یقینی طور پر مشہور شخص ہو گا۔
اور آپ کی پولیس کو ویسے ہی معلوم ہو گا۔
مگر آپ کروائی کرنا نہیں چاہتے @RwpPolice
— F (@OyeNaipagal) May 21, 2025
سید زادہ نامی صارف نے لکھا کہ تشدد کرنے والے لوگوں کی شکلیں صاف نظر آرہی ہیں، ان کا نام اور شناخت سب بتائی گئی ہے انہیں پکڑیں سرکار کی مدیت میں پرچہ دیں۔
سر شکلیں صاف نظر آرہی ہیں نام شناخت سب ہے پکڑیں سرکار کی مدیت میں پرچہ دیں
— syed zaada © (@syedzaada14) May 21, 2025
لیاقت علی نے کہا کہ بڑے لوگوں کا جرم اکثر نظر نہیں آتا اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔
بڑے لوگوں کا اکثر جرم نہیں نظر آتا ۔کوئی نئی بات نہیں ہے اسمیں۔۔۔
— liaqatali (@liaqata12041247) May 21, 2025
ایک ایکس صارف نے پولیس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ حال ہے پولیس کا کہ پولیس عوام سے کہہ رہی ہےکہ آپ ہمیں ریکارڈ بھیجو۔ مطلب کچھ نہیں ہونے والا۔
یہ حال ہے پولیس کا کہ پولیس عوام سے کہہ رہی ہےکہ آپ ہمیں ریکارڈ بھیجو۔ مطلب کچھ نہیں ہونے والا
— Raheem Ahmed Ameeq (@CabDriversLogic) May 21, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
راولپنڈی پولیس شہریوں پر تشدد فرخ کھوکھر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: راولپنڈی پولیس شہریوں پر تشدد فرخ کھوکھر راولپنڈی پولیس ویڈیو میں پولیس کو کہ پولیس صاف نظر گئی ہے رہا ہے کہا کہ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔