خضدار، اے پی ایس کی بس پر دھماکے کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ جس میں قتل، اقدام قتل اور انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے ضلع خضدار میں اسکول وین پر ہونے والے دھماکے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ دوسری جانب واقعہ میں زخمی ہونے والی ایک اور طالبہ دم توڑ گئی۔ تفصیلات کے مطابق خضدار میں بس پر دہشت گرد حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانہ خضدار میں درج کرلیا گیا ہے۔ سی ٹی ڈی کے حکام کے مطابق مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ جس میں قتل، اقدام قتل اور انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ دوسری جانب اسپتال انتظامیہ کے مطابق واقعہ میں ہونے والی 12 سالہ طالبہ کو گزشتہ روز کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا، جو دوران علاج دم توڑ گئی۔ دھماکے کے 35 زخمی زیر علاج ہیں، جن میں سے 5 کی حالت تشویشناک ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق بس پر حملے کے 36 زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔