پی ایس ایل پلے آف میچز؛ ڈی آر ایس سمیت اہم ٹیکنالوجیز سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن کے پلے آف میچز ڈی آر ایس سمیت اہم ٹیکنالوجیز سے محروم رہ گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ایس ایل کے اہم میچز پر مشتمل آخری مرحلہ ڈی آر ایس، پلیئر ٹریکنگ یا اسپیڈ گَن کے بغیر آگے بڑھے گا۔
پاک بھارت کشیدگی بڑھنے کے سبب براڈکاسٹرز میں شامل ہاک آئی کا عملہ میچز ری شیڈول ہونے بعد پاکستان واپس نہیں آیا، جس کے باعث اہم میچز کے دوران ٹیک ٹولز دستیاب نہیں۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل کا راکٹ مین بمقابلہ آئی پی ایل کا روبوٹک کُتا ، کون بہتر؟
دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے بعد دوبارہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) اور بھارت میں انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے بقیہ میچز کھیلے جارہے ہیں تاہم کھلاڑیوں کے علاوہ براڈکاسٹنگ عملہ بھی دونوں ممالک میں سیکیورٹی خدشات کے باعث جانے سے گریز کررہا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل10؛ "میچ آفیشل ٹیکنالوجی" کیا امپائرز کو فائدہ ہوگا؟
واضح رہے کہ بھارتی جارحیت کے سبب ٹورنامنٹ ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔