ایران کے جوہری اثاثوں پر حملے کی تیاری؟ اسرائیل کے خفیہ ارادے بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
واشنگٹن / تل ابیب: امریکی میڈیا سی این این کی رپورٹ کے مطابق، امریکی انٹیلیجنس نے اشارہ دیا ہے کہ اسرائیل ایران کے جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ خدشات اس وقت بڑھ گئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان نئے جوہری معاہدے کے حوالے سے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق، یہ معلومات اسرائیلی فوجی نقل و حرکت، ان کے بیانات اور خفیہ رابطوں سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان میں لمبے فاصلے کے فضائی حملوں کی مشقیں اور ہتھیاروں کی پوزیشننگ شامل ہیں، جو حملے کی تیاری کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
سی این این کے مطابق، اسرائیلی حکومت کی جانب سے حملے کا حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا، لیکن امریکی حکام کے درمیان اس بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، خاص طور پر اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ایسا معاہدہ طے پا جائے جو ایران کے یورینیم ذخیرے کو مکمل طور پر ختم نہ کرے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکہ فی الحال حملے کی حمایت نہیں کرے گا، لیکن اسرائیل کو ایران کی زیرزمین تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے لیے امریکی امداد کی ضرورت ہوگی، جیسے فضا میں ایندھن بھرنے والا تعاون اور مخصوص ہتھیار۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس موقع کو "سنہری موقع" سمجھ رہا ہے کیونکہ ایران پابندیوں اور علاقائی اتحادیوں پر حملوں کے باعث کمزور ہو چکا ہے۔ دوسری جانب، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی مطالبات کو "حد سے زیادہ اور ناقابل قبول" قرار دے کر معاہدے کے امکانات کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اسرائیل اس دھمکی کو سفارتی دباؤ کے طور پر بھی استعمال کر سکتا ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ سخت معاہدہ کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق ایران کے حملے کی
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم