عیدالاضحیٰ کیلئے جانور خریدنے کے خواہشمندوں کیلئے خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
عیدالاضحیٰ کی آمد کے پیش نظر لاہور میں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کے لیے ایک مستقل اور پانچ عارضی مویشی منڈیوں کے قیام کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں اس سال مجموعی طور پر چھ مویشی منڈیاں قائم کی جائیں گی۔ مستقل مویشی منڈی روایتی مقام شاہ پور کانجراں میں لگائی جائے گی، جہاں ہر سال کی طرح اس بار بھی بڑے پیمانے پر جانوروں کی خرید و فروخت کی جائے گی۔
پاکستان پر حملے سے متعلق سوال پر بھارتی لڑکی نے ’’مودی سرکار کو کھری کھری سنا دیں ‘‘، ویڈیو دیکھیں
ڈی سی لاہور کے نوٹیفکیشن کے مطابق پانچ عارضی مویشی منڈیاں تحصیل واہگہ، نشتر، راوی، کینٹ اور رائیونڈ تحصیل میں لگائی جائے گی۔
انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو سہولیات کی فراہمی، ٹریفک کنٹرول، صفائی اور سکیورٹی کے انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ متوقع خریداروں اور بیوپاریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مخصوص مقامات پر ہی جانوروں کی خرید و فروخت کریں تاکہ شہر میں ٹریفک اور صفائی کے مسائل سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔