وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کسی بھی لمحے انتہائی خطرناک رخ اختیار کرسکتی تھی. جس کے نتائج بہت بھیانک ہوسکتے تھے، ان چار دنوں میں بھارت کو جو سبق سکھایا گیا میری نظر میں 1971 کی شکست کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔مظفر آباد میں بھارتی جارحیت میں شہید پاکستانی شہریوں کے لواحقین میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کسی بھی لمحے انتہائی خطرناک رخ اختیار کرسکتی تھی، جس کے نتائج بہت بھیانک ہوسکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ پہلگام کا واقعہ افسوسناک تھا.
بھارت نے اس کی آڑ میں پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کردی، ہم نے اس کے خلاف پوری دنیا کو باور کروایا کہ یہ جھوٹا اور بے بنیاد الزام ہے اور یہ سازش کا حصہ ہے جو خطے کے امن کو تباہ و برباد کرسکتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے کہا کہ پاکستان اس واقعے کی عالمی تحقیقات کے لیے تیار ہیں. مگر بھارت نے اس پر راضی ہونے کے بجائے پاکستان پر حملہ کردیا، بھارت نے نہتے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا مگر ہم نے جوابی کارروائی میں بھارت کے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، اور ان کے 6 جہاز گرائے اور الفتح میزائلوں سے چھٹی کا دودھ یاد دلادیا مگر ہندوستان باز نہیں آیا اور اس نے حملے جاری رکھے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس بات پر متفق تھے کہ پاکستان حق پر ہے، بھارت اس غرور میں تھا کہ کہ دنیا کی طاقتیں اس کے ساتھ کھڑی ہوجائیں گی مگر بھارت کے دوست غیرجانبدار ہوگئے اور جو پہلے ہی غیرجانبدار تھے وہ پاکستان کے ساتھ ہوگئے۔وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کی رات کو ہم نے بھارت پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا، سپہ سالار نے فون پر مجھ سے کہا کہ دشمن کو ایسا زوردار تھپڑ لگایا جائے کہ وہ قیامت تک یاد رکھے. اس کے نتیجے میں پھر آپ نے دیکھا کہ پٹھان کوٹ سے لے کر بھارت کا کوئی بھی ایئرپورٹ ہمارے شاہینوں اور الفتح میزائلوں کی رینج سے باہر نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ پھر صبح 9 بجے مجھے سپہ سالار کا فون آیا کہ بھارت جنگ بندی یعنی گھٹنے ٹیکنے کے لیے تیار ہے، یہ ہے وہ تاریخ جو پاکستان کی افواج نے اپنے خون سے رقم کی ہے، اب مودی سرکار پاکستان پر حملہ آور ہونے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گی، کیونکہ اسے پتا چل گیا ہے کہ ہماری افواج پوری طرح تیار ہیں، ان چار دنوں میں بھارت کو جو سبق سکھایا گیا میری نظر میں 1971 کی شکست کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس جنگ نے یہ ابہام غلط ثابت کردیا کہ پاکستان روایتی جنگ میں بھارت سے پیچھے رہ گیا ہے، ہمیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئی۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ میں فتح کی صورت میں اللہ نے ہمیں عزت دی مگر یہ عزت ان شہدا ، ان غازیوں کی مرہون منت ہے جنہوں نے پاکستان اور بھارت کے حملے سے نہ صرف بچایا بلکہ دشمن کو ایک ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی بھلا نہیں پائے گا۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد تھی، یہ اتحاد وہ دولت ہے جو کسی بھی قوم کو نصیب ہوجائے تو بڑی سے بڑی مشکل آسان ہوجاتی ہے، ہم نے اسی اتحاد اور اتفاق کی طاقت سے معاشی ترقی میں آگے بڑھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آج قوم نے چیف آف آرمی اسٹاف کو فیلڈ مارشل کا خطاب دیا ہے تو یہ قوم کی بہت بڑی عزت ہے کہ ایسا دلیر سپاہی ہے جس نے فرنٹ سے لیڈ کیا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کی تعریف کررہا ہے کہ آپ نے بڑی محنت سے معیشت کو دوبارہ مستحکم کیا ہے، مگر اصل تعریف اس وقت ہوگی جب یہ قوم قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرے گی اور ایک فولادی قوم بنے گی اور دن رات محنت کے ذریعے یہ ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔وزیراعظم نے شہدا کے ورثا کو ایک کروڑ
روپے اور زخمیوں کو دس لاکھ سے بیس لاکھ روپے کے چیک دیے گئے ہیں، اور بہت جلد باقی تمام کو بھی دے دیے جائیں گے، افواج پاکستان کے شہدا کو رینک کے حساب سے ایک کروڑ سے لے کر ایک کروڑ 80 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کے شہدا کے ورثا کو گھر کی سہولت کے لیے عہدے کے لحاظ سے ایک کروڑ 90 روپے سے لے کر چار کروڑ 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے، شہدا کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک ان کی تنخواہ مع الاؤنسز جاری رہے گی. شہدا کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم مہیا کی جائے گی. شہدا کی بیٹیوں کی شادی کے لیے دس لاکھ روپے کی میرج گرانٹ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کے زخمیوں کو بیس لاکھ روپے سے لے کر پچاس لاکھ روپے تک ادا کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ہر حکومت نے کشمیریوں کی آزادی کے لیےآواز اٹھائی اور سفارتی سطح پر ہر طرح ساتھ دیا، چوبیس کروڑ عوام کی دعائیں کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں جو دہائیوں سے بے پناہ ظلم برداشت کررہے ہیں۔انہوں کہا کہ جب تک کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق خود ارادیت نہیں مل جاتا پاکستان ان کا ساتھ دیتا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ:
انہوں نے کہا کہ ا
کہ پاکستان
پاکستان کے
میں بھارت
لاکھ روپے
جائیں گے
ایک کروڑ
سے لے کر
گیا ہے
کے لیے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔