مودی کا جنگی جنون؛ پہلگام حملے کی آڑ میں روہنگیا مسلمانوں پر دہشتگردی کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
مودی سرکار کا جنگی جنون ذلت آمیز شکست کے بعد بھی تھم نہیں رہا، بھارت نے پہلگام حملے کی آڑ میں اب روہنگیا مسلمانوں پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرنا شروع کردیے ہیں۔
بھارت میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن نے ایک بار پھر مودی سرکار کی مسلم دشمن پالیسیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پہلگام حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کو ثابت کرنے میں ناکامی کے بعد بھارتی حکومت نے اب رُخ روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کی جانب موڑ لیا ہے۔
مودی سرکار نے پہلگام واقعے کو جواز بنا کر روہنگیا مسلمانوں پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرنے شروع کر دیے ہیں، حالانکہ یہ افراد پہلے سے رجسٹرڈ اور اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ پناہ گزین ہیں، مگر ان کی بے گناہی کے باوجود انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، جو بھارت کے اندر انسانی حقوق کی صورت حال پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مودی حکومت نے روہنگیا پناہ گزینوں کی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں اور متعدد افراد کو غیر قانونی طور پر ملک بدر کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
یہ اقدام بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں سے متعلق جو نسل کشی سے بچنے کے لیے سرحد پار پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہوں۔
عالمی برادری کی جانب سے اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور رجسٹرڈ پناہ گزینوں کی ملک بدری کو غیر انسانی اور غیرقانونی قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارت پر شدید تنقید میں کہا جا رہا ہے کہ مودی سرکار کی جانب سے یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی سنگین مثال بھی ہے۔
خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنا رہی ہے، جو اس کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پہلگام حملے کا کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود الزام لگا کر روہنگیا مسلمانوں پر ظلم، بھارت کے آئندہ انتخابات سے قبل شدت پسند حلقوں کو خوش کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
روہنگیا مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش عالمی سطح پر بھارت کے امیج کو نقصان پہنچا رہی ہے، اور یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ اگر بین الاقوامی دباؤ نہ ڈالا گیا تو بھارت مزید انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روہنگیا مسلمانوں پر پہلگام حملے مودی سرکار جا رہا ہے کی جانب
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔