تنازعات کو بڑھاوا دینے سے کسی کا فائدہ نہیں، امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان مودی کے اشتعال انگیز الزامات کو مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
پاکستان نے راجستھان میں حالیہ عوامی خطاب کے دوران بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد، اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ الزامات کو واضح طور پر مسترد کیا ہے۔
پاکستانی وزرات خارجہ کے مطابق تحریفات، غلط بیانیوں اور اشتعال انگیز بیانات سے بھرے ان ریمارکس کا واضح طور پر تنگ سیاسی فائدے کے لیے علاقائی کشیدگی کو ہوا دینا ہے۔
وزرات خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف عوام کو گمراہ کرنے کی دانستہ کوشش کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ذمہ دار ریاستی نظام کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دھمکیوں کا سہارا لینا اور ایک خودمختار ملک کیخلاف فوجی کارروائی پر فخر کرنا اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے قائم کردہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ خطرناک رویہ علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے۔
وزرات خارجہ کے مطابق پاکستان دہشتگردی کیخلاف عالمی جنگ میں ایک مستقل اور فعال شراکت دار ہے۔ پاکستان کو دہشتگردی کی کارروائیوں سے جوڑنے کا کوئی بھی الزام حقیقتاً غلط اور صریح طور پر گمراہ کن ہے۔ یہ ایک حربہ ہے جو اکثر بھارت کے اپنے اندرونی چیلنجوں سے توجہ ہٹانے، بالخصوص بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کی جابرانہ پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی بھارت کی کوششیں اچھی طرح سے دستاویزی ہیں اور عالمی برادری نے اسے تیزی سے تسلیم کیا ہے۔ کشمیری عوام کی حالت زار اور حق خود ارادیت کے لیے ان کی منصفانہ جدوجہد کو جارحانہ بیان بازی اور سیاسی انحطاط سے چھپایا نہیں جا سکتا۔
پاکستان نے بھارتی قیادت پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کرے۔ بڑھتے ہوئے بیانات اور جارحانہ انداز تناؤ کو بڑھانے کے علاوہ کوئی اور مقصد پورا نہیں کرتا۔
پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بھارت کو فرضی بیانیے کا سہارا لینے اور انتخابی فائدہ اٹھانے کے لیے جنگجوؤں کا سہارا لینے کے بجائے پرامن بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے تصفیہ طلب تنازعات کو حل کرکے پختگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
وزرات خارجہ کے مطابق پاکستان پرامن بقائے باہمی، علاقائی استحکام اور تعمیری مشغولیت کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان کے عوام اور اس کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار اور اہل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی مہم جوئی یا جارحیت کا پرعزم اور متناسب جواب دیا جائے گا۔ پاکستان نے ماضی میں بھی اپنے عزم کا مظاہرہ کیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ بھی کرے گا۔
وزرات خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عالمی برادری کو بھارت کے جارحانہ انداز اور نفرت پر مبنی بیانیے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے جس سے علاقائی امن کو خطرہ ہے۔
جنوبی ایشیا میں استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی بیان بازی اور اقدامات کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ تنازعات کو بڑھاوا دینے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا، اور پائیدار امن کا راستہ بات چیت، باہمی احترام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری میں مضمر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: میں کہا گیا ہے کہ وزرات خارجہ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔