Express News:
2026-06-03@02:25:11 GMT

سہ فریقی اجلاس اور تنخواہیں

اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT

کبھی سنا کرتے تھے کہ شاہراہ ریشم پر تجارتی قافلے چلا کرتے تھے۔ ان راہوں پر مال تجارت سے لدے ہوئے خچروں کی گھنٹیاں سنا کرتے تھے۔ تھوڑے فاصلوں پر ان کاررواں کے لیے سرائے، قدیم ہوٹل اور کہیں ایک تندور والی روٹیاں تازہ تازہ مسحور کن خوشبو سے رچی بسی جو بھوک کو بھی دور سے آواز دے کر قریب بلا لیتی تھی اور اپنی مٹی کی ہانڈی سے سالن نکال کر تاجر کو پیش کر دیتی اور پھر قریبی کنوئیں کا ٹھنڈا پانی پی کر تاجر سیر ہو کر اٹھتا اور یوں تجارتی قافلے ہزاروں میل کا سفر طے کرکے یورپ کے ملک ملک، نگر نگر بھی مال تجارت فروخت کرتے تھے۔

یہ شاہراہ ریشم جو قدیم زمانے میں تین براعظموں کو ملاتا تھا، ایشیا سے یورپ، چین سے پاکستان و ایران، اور دوسری طرف مصر سے افریقہ تک۔ یعنی تین براعظموں کا GDP مرکز کے طور پر کام کر رہا تھا اور دنیا خوش حال تھی۔ برصغیر کا تعارف دنیا میں سونے کی چڑیا کے طور پر کرایا جاتا تھا، نہ آئی ایم ایف، نہ ڈبلیو ٹی او ۔ یہ جدید طریقے ایسے کیا نافذ ہوئے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت اب مفلوک الحال بن کر رہ گئی ہے۔ اسی شاہراہ ریشم کی تقلید کرتے ہوئے پاک چائنا کوریڈور یعنی ’’سی پیک‘‘ بنایا گیا۔ اب چین کی میزبانی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ مل کر بیٹھے تھے اور اعلان یہ ہوا کہ سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق ہو گیاہے۔

اگر پاکستان کو کابل کے راستے سے وسط ایشیا تک امن و آشتی سے بھرپور تجارتی راہداری مل جاتی ہے تو درآمد و برآمد کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ چین ایک ریلوے ٹرین نیٹ ورک بھی قائم کرنا چاہتا ہے۔ اگر یہ خواب بھی مکمل ہو گیا تو آنے والے دنوں میں چینی مال ہو یا پاکستانی، افغانستان کو بھرپور فائدہ ہوگا۔ ٹرانزٹ فیس ملے گی، ان کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار فراہم ہوگا، ریلوے اسٹیشن ہوں یا بسوں کے اڈے ان کے ارد گرد ہوٹلوں کی قطار ہوگی، ریسٹورنٹس آباد ہوں گے۔

 بیجنگ میں سہ فریقی اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اور چین کے وزیر خارجہ اور افغانستان کے وزیر خارجہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اس سے تینوں ملکوں کو فائدہ پہنچے گا سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ پاک افغان تجارت پہلے کی طرح بحال ہو۔ کبھی افغانستان پاکستان کے برآمدی ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر تھا۔ جو اب بتدریج کم ہو کر آٹھویں نویں نمبر پر چلا گیا ہے۔

تجارتی حجم سکڑ کر رہ گیا ہے کیونکہ طالبان حکومت کی آمد کے بعد سے تجارتی صورت حال پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس صدی کے آغاز سے ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، امن و امان کی بگڑتی صورتحال، گیس کی قلت، بیرونی سیاحوں کی آمد کا تقریباً خاتمہ، غیر ملکی تاجروں کی پاکستان آمد سے انکار، پاکستانی صنعتکاروں کو طرح طرح کے مسائل و مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے باعث ملک کو صنعتی زوال اور معاشی و مالی عدم استحکام اور بدحالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے موقع پر پہلی ضرورت یہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات زیادہ سے زیادہ بہتر ہوں۔ اب اس میں آیندہ چل کر افغانستان کا کیا رویہ ہوتا ہے یا ان کی کیا سیاسی حکمت عملی ہوتی ہے یہ دیکھنا ہوگا۔

ادھر آئی ایم ایف سے بجٹ مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہو گئے ہیں۔ نجکاری عمل تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ایسا معلوم دے رہا ہے کہ بجٹ سے متعلق حکومت کے اختیارات محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ آئی ایم ایف درآمدی گاڑیوں پر ٹیرف میں کمی پر زور دے رہا ہے ایسے میں کس کا بھلا ہوگا، پاکستانی کار کمپنیاں خسارے میں جا کر ملازمین کی چھانٹی کر سکتی ہیں، اس سے ہزاروں پاکستانی ملازم بے روزگار ہو سکتے ہیں اور صنعتی ممالک کا فائدہ ہوگا۔

بجٹ کا اہم ترین تعلق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن یافتہ افراد کی ماہانہ پنشن اور ملک کے لیے کم ازکم تنخواہ کی حد کا مقرر کرنا بھی ہوتا ہے کیونکہ اس طرح ملازمین کو جو تنخواہ ملتی ہے چاہے وہ سرکاری سطح پر ہو یا نجی پرائیویٹ ملازمین ہوں یا پنشن یافتہ افراد ہوں ان کو جب رقوم ملتی ہیں تو یہ مجموعی رقم ملکی اشیا و مصنوعات کی خریداری، خوراک کی خریداری، پوشاک کی خریداری، جوتوں کی خریداری، ٹرانسپورٹ کرایوں میں پیسہ خرچ ہوتا ہے جس سے ٹرانسپورٹ کا شعبہ ترقی کرتا ہے، ریلوے ٹکٹ خریدنے سے ریلوے کی آمدن بڑھ جاتی ہے۔

بہرحال ہر قسم کی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوکر ملک شاہراہ ترقی پر گامزن ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کی تنخواہوں خاص طور پر پنشن یافتہ افراد کی تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ بوڑھے ریٹائرڈ ملازمین کی فلاح و بہبود سے متعلق کئی اسکیمیں متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

ملک میں صحت کے حوالے سے سخت بے یقینی پائی جاتی ہے۔ پرائیویٹ علاج کرانا، آپریشن کروانا اب اتنا مہنگا ترین ہو کر رہ گیا ہے کہ سوچ سے بھی زیادہ۔ لہٰذا حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات متعارف کرائے تاکہ ہر شہری کو اس بارے میں اطمینان حاصل ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی خریداری کرتے تھے ہوتا ہے گیا ہے رہا ہے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا

ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔

 ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔

 آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔

 قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ 

 وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔

 اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
 

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ