تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوستی، بھائی چارے اور ہمسائے کا تعلق مثالی ہے، اس وقت عالم اسلام کو متحدہو کر عالم کفر کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، آج عالم اسلام کو اتحاد و وحدت کی زیادہ ضرورت ہے، مسلم ممالک کے خلاف بڑھتی ہوئی صیہونی سازشیں مسلم حکمرانوں کی خاموشی اور بے توجہی کا نتیجہ ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ ایرانی صدر شہید آیت اللہ ابراہیم رئیسی اور اُن کے رفقاء کی پہلی برسی کی مناسبت سے خانہ فرہنگ اسلامی جمہوری ایران کے زیراہتمام تقریب کا اہتمام کیا گیا، برسی کی تقریب میں علمائے کرام، اساتذہ، شعراء اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے اسکالرز نے شرکت کی۔ اس موقع پر علامہ سید مجاہد عباس گردیزی، علامہ سید کاشف ظہور نقوی، حافظ محمد اسلم، عبدالماجد وٹو، نورالامین خاکوانی، پیر عبدالرحمن گیلانی اور انچارج خانہ فرہنگ اسلامی جمہوری ایران ملتان خانم زاہدہ بخاری نے خطاب کیا۔ رہنمائوں نے اپنے خطاب میں شہید ایرانی صدر اور اُن کے رفقاء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ایرانی صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی ایک جہاں دیدہ شخصیت تھیں وہ جس سے بھی ملتے اپنا گرویدہ بنا لیتے، اُن کا آخری دورہ پاکستان ہر حوالے سے کامیاب اور یادگار رہا، پاکستان اور ایران کے درمیان دوستی، بھائی چارے اور ہمسائے کا تعلق مثالی ہے، اس وقت عالم اسلام کو متحدہو کر عالم کفر کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، آج عالم اسلام کو اتحاد و وحدت کی زیادہ ضرورت ہے، مسلم ممالک کے خلاف بڑھتی ہوئی صیہونی سازشیں مسلم حکمرانوں کی خاموشی اور بے توجہی کا نتیجہ ہیں۔ 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عالم اسلام کو ایرانی صدر ضرورت ہے

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق