ویب ڈیسک : استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ عبدالعلیم خان نے کہا کہ   جس وقت ہم نے وار کیا تو پوری دنیا کو پتا لگا کہ اب پاکستان نے وار کیا، ڈیڑھ گھنٹے میں پاکستان نے بھارت کا وہ حال کیا جس کے بعد وہ پوری دنیامیں معافیاں مانگتے پھرتے تھے

 معرکہ حق کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ   سب سے پہلے ہمارے معصوم بچوں کی شہادت ہوئی، اگلے تین دن اس پوری قوم نے بھی دیکھا اور پوری دنیا نے بھی دیکھا کہ کس طریقے سے پاکستان پر دشمن حملہ آور ہوا، یہاں پر ڈرون آئے  اور پاکستان کو نشانہ بنایا، پاکستان کی تنصیبات پر میزائلوں سے حملہ کیا  گیا ، ہمارے ایئر پورٹ پر میزائل مارے ، پوری دنیا  نے دیکھا کہ وہ فوج جو تین دن تک اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر بیٹھی تھی ، اس بات پر کہ کہیں بات بہت آگے نہ بڑھ جائے ، ہم ایک ایٹمی ملک ہیں ، جب ایٹمی طاقت ہوتی ہے تو آپ جذباتی نہیں ہو سکتے ، تو ذمہ داری کا احساس کرنا پڑتاہے ، ہماری افواج نے اس ذمہ داری کا احساس کیا ، ہم نے تین دن تک بڑے احسن طریقے سے اپنی چیزوں کو بڑھنے نہیں دیا لیکن دشمن نے سمجھا کہ یہ کمزور ہے، دشمن ہمارے جواب نہ دینے کو بزدلی سمجھ لیا تھا ، پھر پوری قوم نے دیکھا جب انہوں نے ہمارے ایئر پورٹ کو نشانہ بنایا تو ہمارے ایک جنرل نےجو ڈی جی آئی ایس پی آر ہیں، انہوں نے رات اڑھائی بجے کہا کہ ہندوستان والو اب اپنی تیاری پکڑو ، ہم نے ان کو للکارا ، رات کے اندھیرے میں حملہ نہیں کیا، ہم نے کہا اپنا بندوبست کر لو ہم آ رہے ہیں، پھر ہم نے انتظار کیا کہ فجر کی اذان ہو جائے ، جب صبح ہو جائے اس وقت وار کریں گے ، ہم نے تاریکی میں وار نہیں کیا ۔

برطانیہ: بارشیں نہ ہونے سے خشک سالی کاخطرہ پیداہوگیا  

انہوں نے کہا کہ  جس وقت ہم نے وار کیا تو پوری دنیا کو پتا لگا کہ اب پاکستان نے وار کیا، ڈیڑھ گھنٹے میں پاکستان نے بھارت کا وہ حال کیا جس کے بعد وہ پوری دنیامیں معافیاں مانگتے پھرتے تھے ، جا کر امریکی صدر کی منتیں کیں کہ ہمیں بچا لو، جنہیں بڑا گھمنڈ تھا کہ ہمارے پاس بڑے پیسے اور بڑی تجارت ہے ،پاکستان کیا چیز ہے ، بھارت کو اور اس کے وزیراعظم کو منتیں کرنی پڑیں، ، اس کے بعد مودی نے پوری دنیا کو فون کر کے کہا کہ ہمیں پاکستان سے بچاو ، وہ قوم جس نے برداشت کیا تین دن ، اس نے ڈیڑھ گھنٹے میں بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا، میں نے اس کے بعد مودی کیلئے ٹویٹ کیا جس میں کہا کہ ’ تسلی ہے یا کچھ اور بھی خواہش ہے  تو بتائیں  وہ بھی پوری کر دیتے ہیں ‘‘ ۔

شادباغ پولیس کی بڑی کارروائی، متحرک ڈکیت گینگ 8 گھنٹوں میں گرفتار

صدر آئی پی پی کا کہناتھا کہ ہم نے اس معرکے میں دشمن کے چھ جہاز گرائے ، پاکستان کے ایک جہاز کو بھی آنچ نہیں آئی، وہ ایک بھی جہاز کو نشانہ نہیں بنا سکے، وہ جہاز جس پر انہیں گھمنڈ تھا، کہتے تھے کہ رافیل کو کوئی گرا نہیں سکتا، ہم نے چار گرائے اور وہ بھی بھارت کی سرزمین پر تباہ کیئے ، ہمیں ہمارے سپہ سالار پر بہت فخر ہے ، اللہ نے ہمیں بہترین قیادت دی ہے ، ہم سپہ سالار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، حافظ صاحب نے جس طریقے سے اس ملک کی عوام کو عزت دلوائی ہے ، ہم دل کی گہرائیوں سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مبارک بھی دیتے ہیں اور شکریہ بھی ادا کرتے ہیں ۔آج ہم اپنے ایئر چیف کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں ، ہماری فضائیہ نے بڑی بہادری سے دشمن کو شکست دی، ان کے چھ جہاز گرائے ہیں، فضائیہ اور بحریہ کو بھی سلام پیش کرتے ہیں، میں آپ سب کی طرف سے پاک فوج کو کہنا چاہتاہوں کہ اس ملک کی طرف جب بھی دشمن میلی آنکھ سے دیکھے گا تو ملک ہر بچہ اپنی فوج کے ساتھ ملک کی حفاظت کرے گا ۔

شادباغ:پولیس کی کاروائی ،متحرک ڈکیت گینگ 8 گھنٹوں میں گرفتار

انہوں نے کہا کہ آج میں ان شہداء کا ذکر کرنا چاہتاہوں ، وہ ہمارے بیٹے جنہوں نے اپنی جان قربان کرکے ہمارے بچوں کی حفاظت کی ہے ، جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی، اپنی جان کا نذرانہ دیاہے لیکن آپ کے بچوں پر آنچ نہیں آنے دی، اپنے ماں باپ کو بے سہارا چھوڑ دیا ، اپنے بچوں کو یتیم کر دیا لیکن قوم کے بچوں کو یتیم نہیں ہونے دیا۔  آپ سب کی طرف سے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں

عبدالعلیم خان کا کہناتھا کہ آج ہمارا کھویا ہوا مقام ڈیڑھ گھنٹے نے واپس لا کر دیاہے ، پوری دنیا جان گئی ہے کہ پاکستان کی افواج کیا ہیں اور پاکستان کے عوام کیا ہیں ، جنہیں غلط فہمیاں تھیں سب دور ہو گئیں ہیں،  فوج صرف پاکستان کی نہیں بلکہ عالم اسلام کی فوج ہے ، یہ سپہ سالار عاصم منیر صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا سپہ سالار ہے ۔ان کا کہناتھا کہ پاکستان کی حفاظت کیلئے یہ قوم متحد ہے ، کوئی بھی سیاسی جماعت ہو، سیاسی اختلاف ہو سکتاہے ، اس ملک کیلئے ہم سب اکھٹے ہیں ، جو پاکستان کا دشمن ہے ، اس کی اس ملک میں کوئی گنجائش نہیں ہے ،

عارف والا، تھانہ صدر کی حدود میں وکیل قتل

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: پاکستان کی ڈیڑھ گھنٹے پاکستان نے نے وار کیا سپہ سالار پوری دنیا انہوں نے کرتے ہیں نے کہا کہا کہ ملک کی اس ملک تین دن کے بعد

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار