Express News:
2026-07-24@05:50:12 GMT

سینیٹ سے سول کورٹس ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور

اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT

اسلام آباد:

سینیٹ اجلاس میں سول کورٹس ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، پی ٹی آئی سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے ایوان میں سینیٹرز کی عدم موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں چند سینیٹرز بیٹھے ہیں باقی خالی پڑا ہے، پھر بھی کارروائی چل رہی ہے۔

سینیٹ اجلاس کی صدارت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے پریذائیڈنگ افسر عرفان صدیقی نے کی۔

سول کورٹس ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور ہونے پر اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہم اس بل کی مخالفت نہیں کررہے ہیں طریقہ کار پر اختلاف ہے، وزیر قانون کی جگہ وزیر مملکت بل پیش کر رہی ہیں جن کو معلومات نہیں ہیں، وزیر قانون اور وزیر پارلیمانی امور نہیں ہے حکومت کیسے قانون سازی میں سنجیدہ ہے، بلز پر وضاحت وزیر قانون کو دینی چاہیے لیکن اپوزیشن وضاحت کر رہی ہے۔

سینیٹ میں فیڈرل بورڈ برائے انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ترمیمی بل 2025، حوالگی ترمیمی بل 2025، پاکستان شہریت ایکٹ 1951 میں مزید ترمیم کا بل، سول سرونٹس ترمیمی بل 2025، اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز بل 2025 اور پاکستان نیوی ترمیمی بل 2025 پیش کیے گئے جنہیں متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ یہ ہاؤس اس لیے نہیں ہے کہ اس میں صرف کاغذ لا کر رکھ دیے جائیں، یہ ہاؤس صرف کارروائی پورا کرنے کے لیے نہیں ہے، ہاؤس میں بلز پر بحث ہی نہیں ہوتی ہے اور وقفہ سوالات و جوابات بھی نہیں لیے جا رہے ہیں۔

شبلی فراز نے کہا کہ آج بھی ایجنڈا میں سوالات و جوابات معطل کر دیے گئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ بلز منظور کروانے ہیں، پی ٹی آئی اور اپوزیشن آج سارے بلوں کی مخالفت کرتی ہے، ہاؤس کے چیئر سے ماسوائے ایک کے کوئی رولنگ ہی نہیں دی گئی۔

پریذائیڈنگ افسر عرفان صدیقی نے کہا کہ شبلی فراز کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں، کئی مواقع پر اپوزیشن نے ساتھ دیا ہے، وقفہ سوالات کی معطلی پر متعلقہ سیکریٹریز سے پوچھا جائے گا، قومی مسائل پر حکومت اور اپوزیشن کا اتفاق رائے ہے۔

سینیٹر سلیم مانڈی والا نے کہا کہ آج جو بھی قانون سازی ہو رہی ہے وہ کمیٹی کو جائیں گی، میں نے چھ سال ان کے ساتھ کام کیا ہے، اس وقت ہم ان کو کہتے تھے کہ ایسی روایت نہ ڈالیں، وفقہ سوالات کا سینیٹ میں مذاق بنا ہوا ہے۔ وقفہ سوالات موخر نہیں ہونا چاہیے، وقفہ سوالات موخر کرنے کے قواعد کی پیروی نہیں کی گئی، جو ایوان میں غلط ہو رہا ہے وہ نہیں ہونا چاہیے۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ یہ جواب دیا جاتا ہے کہ آپ کے دور میں بھی ہوتا رہا ہے، پھر ایک قرارداد منظور کرلیں جو ہو رہا ہے ایسا ہونے دو۔

سینیٹ اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل 2025 پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی گئی۔ رپورٹ سینیٹر سلیم مانڈی والا نے پیش کی۔

وزیر مملکت موسمیاتی تبدیلی شذرہ منصب نے سول کورٹس آرڈیننس 1962 میں مزید ترمیم کا بل 2025 پیش کیا۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وزیر مملکت کو یہ معلوم نہیں ہے کہ بل ہے کیا، اس بل کو وزیر قانون یا وزیر پارلیمانی امور کو پیش کرنا چاہیے تھا۔

پریذائیڈنگ افسر عرفان صدیقی نے کہا کہ یہ بل سینیٹ کمیٹی سے ہوکر آیا ہے، قانون سازی میں رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ وزیر قانون اس بل پر بات کرتے تو بہتر ہوتا۔

فیڈرل بورڈ برائے انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ترمیمی بل 2025 سینیٹ میں پیش کیا گیا۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ کمیٹی 45 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے۔

اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ وزیر مملکت کو بھیج دیا ہے انہیں بلز سے متعلق کوئی علم نہیں ہے، یہ حکومتی بلز ہیں، انہیں اس طرح سے ٹیک اپ نہیں کیا جا سکتا۔ بل والے سارے ایجنڈے کو مؤخر کریں، اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے تاکہ وزیر موجود ہوں۔

پریذائیڈنگ افسر عرفان صدیقی نے کہا کہ یہ اپوزیشن کی ڈیمانڈ جائز ہے، ہمیں اس کا احترام کرنا چاہیے۔

سول سرونٹس ترمیمی بل 2025 متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ وزیر مملکت موسمیاتی تبدیلی شذرہ منصب علی خان نے کہا کہ بل کے تحت گریڈ 17 سے اوپر کے افسران گوشوارے ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے۔

وفاقی وزیر کامرس جام کمال کی جانب سے پیش کیا گیا اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز بل 2025 بھی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔ بل پر وضاحت دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اسٹیل کے کچھ پراجیکٹس سے متعلق بل میں تبدیلی کر رہے ہیں۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ چند پراجیکٹس کے لیے ہم قانون تبدیل کر رہے ہیں، کیا کوئی اور ملک ایسے کرے گا کہ وہ ایک پراجیکٹ کے لیے قانون بدل دے؟

وفاق وزیر نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ پراجیکٹ کمرشل نہیں ہے بلکہ گرانٹ ہے، چینی حکومت نے گرانٹ دی ہے وہی کر رہی ہے، اس میں کوئی شک نہیں انٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز کو مضبوط کرنا چاہیے۔

سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پریذائیڈنگ افسر عرفان صدیقی نے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ عرفان صدیقی نے کہا کہ نے کہا کہ یہ وقفہ سوالات وزیر مملکت سول کورٹس ایوان میں کہ وزیر پیش کیا نہیں ہے رہی ہے کے لیے رہا ہے پیش کی

پڑھیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔

ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،

وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن