قومی اسمبلی کا اجلاس، بجٹ سے قبل آئی ایم ایف کے حکم پر ایک اور بل کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کیے جانے سے چند روز قبل، قومی اسمبلی نے جمعرات کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ڈکٹیٹ کردہ ایک اور منی بل ضمنی ایجنڈے کے ذریعے اور بغیر کسی بحث کے منظور کر لیا۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق آف دی گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی بل 2025 کا مقصد 7 مارچ سے صنعتی کیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پیز) کو قدرتی گیس یا درآمدی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی پر عائد گرڈ لیوی کے لیے قانونی جواز فراہم کرنا ہے۔ اس بل کو وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قواعد کی منظوری کے بعد ایوان میں پیش کیا۔
وزیر نے بل کی منظوری کے لیے تحریک پیش کی، جس کے فوراً بعد پیٹرولیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کے چیئرمین مصطفیٰ محمود کی رپورٹ پیش کی گئی۔ بل نے محض ایک دن میں تمام پارلیمانی مراحل مکمل کر لیے کیونکہ کمیٹی نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے چند منٹ قبل بل کی منظوری دے دی تھی۔
حزب اختلاف نے وزیر کو بل پیش کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو چیلنج کیا، تاہم ووٹنگ میں انہیں 44 کے مقابلے میں 99 ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اس سے قبل 17 مئی کو قومی اسمبلی، انکم ٹیکس (ترمیمی) بل 2024 کی بھی منظوری دے چکی ہے۔
ایک سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق، جمعرات کی صبح قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس کے دوران وزیر پیٹرولیم نے بل پر تفصیلی بریفنگ دی جس میں اس قانون کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، خاص طور پر اس حوالے سے کہ یہ آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پاکستان کے وعدوں کا حصہ ہے۔
وزیر نے بتایا کہ کیپٹو پاور جنریشن کے فیز آؤٹ پر طویل عرصے سے غور کیا جا رہا تھا، تاہم سیاسی و معاشی مجبوریوں کے باعث اس پر عمل درآمد تاخیر کا شکار رہا۔
انہوں نے زور دیا کہ صنعتوں کو کیپٹو پاور سسٹم سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کا مقصد بجلی کی اضافی پیداوار کو بہتر بنانا، توانائی کے شعبے کی کارکردگی بڑھانا، اور معیشت پر مالی دباؤ کم کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بل کے مسودے کی تیاری کے لیے ایک جامع مشاورتی عمل مکمل کیا گیا، اور قومی اسمبلی کے اسپیکر نے اس عمل کو مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
وزیر نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ یہ قانون عوامی مفاد کی خدمت کے لیے بنایا گیا ہے، اس میں صنعتی شعبے کے تحفظات کو مدنظر رکھا گیا ہے اور صنعتی سرگرمیوں میں خلل نہیں آئے گا۔ انہوں نے بجلی کی بلند قیمتوں کو بھی ایک سنگین مسئلہ قرار دیا اور گرڈ سپلائی کے ذریعے بڑھتی ہوئی عوامی طلب پوری کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یاد رہے کہ حکومت پہلے ہی ایک آرڈیننس کے ذریعے یہ قانون نافذ کر چکی تھی، اور مارچ میں صنعتی سی پی پیز کے لیے گیس کے نرخوں میں تقریباً 23 فیصد اضافہ اور بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا گیا تھا، تاکہ مارچ میں آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پالیسی مذاکرات میں پیش رفت ہو سکے۔
چونکہ آرڈیننس اپنی آئینی مدت مکمل کرنے والا تھا، اس لیے حکومت کے لیے ضروری تھا کہ وہ قومی اسمبلی سے اس کی منظوری حاصل کرے۔ چونکہ یہ منی بل تھا، اس لیے اسے سینیٹ سے منظور کروانے کی ضرورت نہیں تھی۔
تاہم، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، جس کی ذمہ داری صرف قومی اسمبلی کو سفارشات دینا ہے، نے 16 مئی کو بغیر کسی سفارش کے بل کی منظوری دے دی تھی۔
قرارداد کی منظوری
علاوہ ازیں، قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی جس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹر ٹریٹی) کو معطل کرنے کے یکطرفہ فیصلے کی شدید مذمت کی گئی اور اسے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی اقدام قرار دیا گیا۔
یہ قرارداد وزیر برائے آبی وسائل معین وٹو نے مختصر بحث کے بعد پیش کی۔ پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل نے صدر کا حکم امتناع پڑھ کر سنایا، جس کے ساتھ ہی 5 مئی سے جاری قومی اسمبلی کے موسم گرما کے اجلاس کا اختتام ہوگیا۔
اراکینِ اسمبلی نے اپنی تقاریر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں مخالفانہ ذہنیت کے ساتھ کام کرنے والا قرار دیا۔
قانون سازوں نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں اسکول بس پر حملے کی بھی مذمت کی اور حملہ آوروں کی مبینہ حمایت پر بھارت کو مورد الزام ٹھہرایا۔
قبل ازیں وقفہ سوالات کے دوران پی ٹی آئی کے رکن اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی کمی کی نشاندہی پر اسمبلی کی کارروائی چند منٹ کے لیے معطل رہی۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بل کی منظوری قومی اسمبلی آئی ایم ایف کیپٹو پاور کے لیے پیش کی
پڑھیں:
کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔
صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔
انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔
گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔
انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔
ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گورنر سندھ نہال ہاشمی