پشاور:

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیراطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا ہے کہ مریم نواز دہشت گرد مودی کے جرائم چھپانے کے لئے قومی یکجہتی پر حملہ کررہی ہیں۔

بیرسٹر سیف نے مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ خضدار کی شہید بچیوں کے بہتے خون پر کھڑے ہوکر مریم نواز کا بھارت کو کم نقصان دہ اور پی ٹی آئی کو زیادہ کہنا مودی نوازی کے علاوہ کچھ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مریم کا بیان درحقیقت پی ٹی آئی کے خلاف نہیں بلکہ مودی کے حق میں ہے، ایسی بیٹی جسکے والد نے آج تک مودی کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا اس سے کیا توقع کی جاسکتی ہے، مریم نواز مودی کا جاتی امراء آنے کا احسان ہمارے شہدا کے خون کی تذلیل سے نہ اتاریں۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ فیصل آباد کے طلبہ کے سامنے کھڑے ہوکر دہشت گرد مودی کا دفاع اور قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے، پاک بھارت کشیدگی پر چپ سادھنے والوں کے منہ سے پی ٹی آئی پر تنقید مضحکہ خیز ہے، مریم نواز پی ٹی آئی پر تنقید کی بجائے قوم کو پاک بھارت کشیدگی پر مجرمانہ خاموشی کا جواب دیں، مجرمانہ خاموشی واضح ثبوت ہے کہ شریف خاندان کو قومی مفاد عزیز نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مریم نواز پی ٹی آئی

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف