امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مبینہ طور پر ٹیسلا کے مالک اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو ملک بدر کرنے پر غور کررہے ہیں۔

فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ٹیکس بل کی مخالفت پر ایلون مسک کو ڈیپورٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب میں کہاکہ مجھے معلوم نہیں، ہم اسے دیکھیں گے۔

ٹرمپ نے مزید کہاکہ ایلون مسک اس بات پر فکرمند ہیں کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق حکومتی مراعات کھو چکے ہیں، اور انہوں نے خبردار کیاکہ ایلون مسک مزید بہت کچھ کھو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے اُمید ظاہر کی کہ وہ اپنے اخراجاتی بل کو کانگریس سے منظور کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ ایلون مسک جن کی پیدائش جنوبی افریقہ میں ہوئی نے ری پبلکن پارٹی کے مجوزہ ٹیکس بل کی شدید مخالفت کی ہے۔ اس بل کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر صارفین کو دی جانے والی ٹیکس کریڈٹ کی سہولت ختم ہو سکتی ہے، جو کہ اس صنعت کی ترقی میں ایک کلیدی عنصر ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی مقبولیت میں اضافے کا ایک بڑا سبب یہی کنزیومر کریڈٹ ہے، جس کے خاتمے سے نہ صرف ٹیسلا بلکہ پوری ’ای وی‘ انڈسٹری متاثر ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات امریکی صدر ایلون مسک ٹیسلا ڈونڈ ٹرمپ ڈی پورٹ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اختلافات امریکی صدر ایلون مسک ٹیسلا ڈونڈ ٹرمپ ڈی پورٹ وی نیوز ایلون مسک

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل