عمران خان کیلئے بیک چینل مذاکرات، امریکا میں پاکستانی ڈاکٹرز کی دوبارہ پاکستان آمد
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عمران خان کیلئے خاموش سفارتکاری میں شامل امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹرز اور تاجر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی رہائی کی تازہ کوششوں کے سلسلے میں ایک مرتبہ پھر پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ پاکستانی ڈاکٹروں اور تاجروں کے ایک گروپ نے چند ماہ قبل اسلام آباد کے دورے کے دوران ایک سینئر عہدیدار کے ساتھ ساتھ عمران خان سے جیل میں ملاقات کی تھی۔ یہ گروپ اس وقت لاہور میں موجود ہے۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد اب تک عمران خان سے ملاقات میں کامیاب نہیں ہو پایا، اس بات کی تصدیق بھی نہیں ہوئی کہ کسی اہم عہدیدار کے ساتھ اس وفد کی کوئی بات چیت ہوئی ہے یا نہیں۔ اس وفد کیلئے آئندہ ہفتے کے دوران ہونے والے رابطوں کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دورے پی ٹی آئی کے حامیوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے عمران خان کے قانونی اور سیاسی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران، کچھ غیر رسمی رابطوں کے باوجود کسی اہم پیشرفت کی اطلاع نہیں ملی۔ اس معاملے سے آگاہ ذرائع کے مطابق، ایسی کوششوں میں پیشرفت نہ صرف سیاسی مذاکرات پر منحصر ہے بلکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کے طرز عمل اور پارٹی کے غیر ملکی چیپٹرز، بالخصوص امریکا اور برطانیہ کے پیغامات پر بھی منحصر ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے متعدد مرتبہ کہا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کرے گی، اس کی بجائے سیاسی جماعتیں اپنے مسائل آپس میں خود حل کریں۔ لیکن اس کے باوجود، پی ٹی آئی کے کچھ رہنما ایسے بیانات کے باوجود اہم عہدیداروں کے ساتھ پس پردہ بات چیت کیلئے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکائونٹس اور منسلک بین الاقوامی چیپٹرز کے ذریعے عسکری قیادت پر مسلسل تنقید کسی بھی ممکنہ مفاہمت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ فوج پر تنقید پر مبنی مہمات، پر غلط معلومات پھیلانا، اور بین الاقوامی لابنگ کی کوششیں بشمول واشنگٹن اور لندن پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت میں سے کچھ نجی طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ ایسے جارحانہ ہتھکنڈوں نے پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے، خصوصاً ایسی کوششوں کو زیادہ نقصان ہوا ہے جن کا مقصد عمران خان کیلئے ریلیف کا حصول ہے۔ پارٹی کے اندر اس بات کا اعتراف بڑھ رہا ہے کہ پارٹی کو بامعنی مذاکرات کے قابل بنانے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی جارحانہ پالیسی کو کم کرنا ہوگا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کے قسمت میں بہتری بالخصوص عمران خان کی مشکلات میں کمی کا انحصار پارٹی کی جانب سے مثبت رویہ اختیار کرنے، معیشت کی بہتری کی کوششوں میں خلل نہ ڈالنے اور ریاستی اداروں پر تنقید روکنے پر ہوگا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پاکستان میں حکام کے ساتھ رابطوں کی کوشش کے ساتھ تجزیہ کار اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ کوششیں مفاہمت کے نئے مرحلے کا اشارہ دیتی ہیں یا پھر پی ٹی آئی ایک اور موقع ضایع کر دے گی۔
انصار عباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عمران خان کی پی ٹی ا ئی کے کی جانب سے کے ساتھ
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز