مودی بہت بڑا ظالم جابر اور متعصب ہندو ہے، علامہ ریاض نجفی
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
لاہور میں خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس الشیعہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ڈرونز، فرانس کی ٹیکنالوجی اور بھارت کو حاصل امریکہ کی سرپرستی کے باوجود پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست دی ہے، اس عظیم کامیابی پر پوری قوم سر بسجود ہوکر شکر بجا لاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل چیز اتحاد و وحدت ہے، اگر یہ قائم رہے توہم ہمیشہ اپنے مقاصد حاصل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ دشمن کم ظرف اور ظالم ہے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ہی دیکھ لیں کتنا بڑا ظالم جابر اور متعصب ہندو ہے، اس نے بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کیا، اس نے پہلے الیکشن جیتنے کیلئے پہلے پلوامہ اور اب پہلگام کا ڈرامہ رچایا اور پھر جھوٹ کے اس پلندہ کو موضوع بنا کر پاکستان پر حملہ کر دیا، لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے، ہم سرخرو اور فتحیاب ہوئے، پورے پاکستان نے مل کر بھارت کوایسا جواب دیا ہے کہ دشمن کے دانت کھٹے ہو گئے۔ جامع مسجد علیؑ حوزہ علمیہ جامعة المنتظر میں خطاب کرتے ہوئے حافظ ریاض نجفی نے کہا پاکستان کی بنیاد لا الہ الا اللہ ہے، ان شاءاللہ اسے تا قیام قیامت قائم و دائم رہنا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان نے اپنے دفاع میں مضبوط ردعمل دیا جس کی پوری دنیا میں اس وقت داد دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی ڈرونز، فرانس کی ٹیکنالوجی اور بھارت کو حاصل امریکہ کی سرپرستی کے باوجود پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست دی ہے، اس عظیم کامیابی پر پوری قوم سر بسجود ہوکر شکر بجا لاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل چیز اتحاد و وحدت ہے، اگر یہ قائم رہے توہم ہمیشہ اپنے مقاصد حاصل کریں گے، اگر مسلم ممالک میں اتحاد ہوتا اور اپنے فلسطینی بھائیوں کا احساس ہوتا تو جو کچھ آج غزہ یمن شام کشمیر کی حالت ہے ایسی نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ انسان کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ اپنے متعلقہ ادارے کیساتھ مخلص رہے اور اس سے منسلک لوگوں کیساتھ ہمیشہ محبت اور پیار سے پیش آئے، جتنا زیادہ محبت اور الفت سے کام ہوگا، کامیابی اتنی ہی زیادہ ہوگی، اس سے برکت بڑھتی ہے۔
علامہ ریاض نجفی نے کہا کہ اس دنیا میں سب سے بہترین کمانڈر انچیف حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، آپ اپنی زندگی میں ہر کسی سے محبت اور الفت سے پیش آئے۔ قرآن مجید میں آیا ہے کہ خاتم الانبیاءاپنی امت کی محبت میں حریص تھے۔ پورے قرآن مجید میں اللہ کی ذات نے رؤف اور رحیم اپنے لیے کہا ہے، یا اپنے رسول کے لیے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم کو ر حم دل بنایا، وہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ رحم کرنیوالے تھے۔ انہوں نے کہا روایت میں ہے کہ کسی کے باپ کو اگر گالی دو گے تو یہ خود اپنے باپ کو گالی دینے کے مترادف ہے، اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کسی کی توہین کریں گے تو پھر اس سے بھی بھلے کی امید نہ رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان نے بھارت کو نے کہا
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔