فلم اسٹار رنگیلا کو مداحوں سے بچھڑے 20 سال گزر گئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
کچھ لوگ فنکار ہوتے ہیں اورکچھ مکمل فن، فلم اسٹار رنگیلا صرف فنکار نہ تھے وہ قہقہوں کا استعارہ تھے۔
اپنے طویل کیریئر کے دوران لاکھوں دلوں پر راج کرنے والے فلم سٹار رنگیلا کو مداحوں سے بچھڑے 20 سال گزر گئے۔
یکم جنوری 1937 میں کرم ایجنسی کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والے محمد سعید خان عرف رنگیلا نے فن مزاح کو فلموں کا لازمی جز بنادیا۔
یہ وہ دور تھا جب اسکرین پر سنجیدگی کے سائے گہرے تھے لیکن رنگیلا نے اس سائے کو روشنی میں بدلا، رنگوں سے اجالا کیا اور مزاح کی روح کو زندگی بخشی۔
ایک معمولی پینٹر کی حیثیت سے فلموں کے پوسٹر بناتے بناتے، قسمت کا ہاتھ انھیں پوسٹر سے اٹھا کر پردہ سکرین پر لے آیا اور پھر وہ خود فلم بن گئے۔
چار دہائیوں تک اپنی منفرد کامیڈی سے محظوظ کرنے والے رنگیلا نے ان گنت کردار نبھائے، ان کی اداکاری صرف چہرے کی جنبش نہ تھی، پورا بدن بولتا تھا، آنکھیں مکالمے کہتی تھیں، ہاتھوں کی حرکات سے مزاح جنم لیتا تھا اور چہرے پر بننے والی ہر شکل، ایک طنزیہ کہانی کہتی تھی۔
رنگیلا نے اپنے وقت کے نامور فنکاروں کے ساتھ کام کیا تاہم شہنشاہ ظرافت منور ظریف کے ساتھ ان کی جوڑی کا چرچہ خوب رہا۔ اپنے فنی سفر کے دوران رنگیلا نے 300 سے زائد فلموں میں کام کیا۔
رنگیلا نے بطور ڈائریکٹر، رائٹر اور پروڈیوسر بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ انھوں نے دیا اور طوفان، کبڑا عاشق، رنگیلا، مولا جٹ، عورت راج، بازار حسن اور میڈم باوری جیسی کامیاب فلموں میں کام کیا۔
ایک کامیاب اداکار اور شاندار ہدایتکار رنگیلا نے جب نغمے گائے تو ’’گا میرے منوا، گاتا جا رے ، سننے والوں نے صرف گانا نہیں سنا بلکہ اس میں ایک ٹوٹے ہوئے دل کی صدائیں بھی سنیں۔
اداکار رنگیلا کو فنی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی ایوارڈ سمیت متعدد اعلی اعزازات سے نوازا گیا۔
وہ 68 برس کی عمر میں 24 مئی 2005ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رنگیلا نے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔