کوہستان کرپشن اسکینڈل، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اکاؤنٹنٹ جنرل کے تبادلے پر برہمی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبرپختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اسپیکر بابر سلیم سواتی نے 40 ارب روپے کے کوہستان اسکینڈل کی انکوائری کے دوران صوبے کے اکاؤنٹنٹ جنرل، نصیرالدین سرور، کے اچانک تبادلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوزکے مطابق 22مئی 2025 کو کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اسلام آباد کے نام ایک مراسلے میں، کمیٹی کے چیئرمین نے اس تبادلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی نے نصیرالدین سرورکے اچانک تبادلے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کنٹرولر جنرل سے وضاحت طلب کرلی، بابر سلیم سواتی نے کہا کہ تبادلے کا وقت اور اس کے اثرات تشویشناک ہیں، اس نوعیت کی مالی بے ضابطگیاں متعلقہ افسران کی ملی بھگت یا غفلت کے بغیر ممکن نہ تھیں۔
چیئرمین پیلک اکاونٹس کمیٹی کے مطابق 40 ارب روپے کے کوہستان اسکینڈل کی تحقیقات اور مالی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، نصیرالدین کو ڈی جی انویسٹی گیشن، ویجیلنس و ریگولیشن تعینات کیا گیا جہاں اب وہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے انچارج ہوں گے۔
خط، اسپیکر کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری نے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کو لکھا گیا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے ان خدشات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تبادلے کا وقت اور اس کے اثرات تشویشناک ہیں۔
اوکاڑہ میں ٹرالر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، باپ، 2 بیٹے اور بیٹی جاں بحق
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: تبادلے پر نٹس کمیٹی کمیٹی کے کا اظہار اکاو نٹس
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔