بھارتی دستوں نے سرحد پار کرنے والے پاکستانی کو گولی مار دی
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 24 مئی 2025ء) بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد سے ہفتہ 24 مئی کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے بتایا کہ ایک پاکستانی شہری دونوں حریف ہمسایہ ممالک کے مابین بین الاقوامی سرحد پار کر کے بھارت میں داخل ہو گیا تھا۔
'ہم نے بھارتی بیانیے کا کامیابی سے مقابلہ کیا‘، پاکستانی وزیر خارجہ
اس پر سکیورٹی اہلکاروں نے اسے رکنے کے لیے کہا مگر جب اس نے مبینہ طور پر ایسا نہ کیا، تو بی ایس ایف کے دستوں نے اس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا۔
یہ واقعہ ریاست راجستھان میں سرحد پر پیش آیاانڈین بارڈر سکیورٹی فورس کے مطابق یہ واقعہ جمعہ 23 مئی کی شام ریاست راجستھان کے ضلع بناس کنٹھا میں پیش آیا۔
(جاری ہے)
بی ایس ایف کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ''یہ شخص پاکستان سے بھارتی علاقے میں در اندازی کا مرتکب ہوا تھا۔ جب اسے فوراﹰ رک جانے کے لیے کہا گیا، تو بھی وہ مسلسل آگے بڑھتا رہا۔
اس پر اس شخص پر فائرنگ شروع کر دی گئی۔‘‘پاکستان کو وہ پانی نہیں ملے گا جس پر بھارت کا حق ہے، بھارتی وزیراعظم مودی
آپریشن سندور جاری مگر فی الوقت غیر فعال، بھارتی وزیر خارجہ
بیان کے مطابق، ''یہ شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔‘‘ بعد ازاں بی ایس ایف نے اس شخص کی جو تصویر جاری کی، اس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ زمین پر ایک ایسے شخص کی لاش پڑی تھی، جس کے بال کافی حد تک سفید تھے۔
پاکستان کی طرف سے اس واقعے پر آخری خبریں ملنے تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔
پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بندیپاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سرحد پر یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا، جب دونوں حریف ہمسایہ ممالک کے مابین حالیہ چار روزہ مسلح تصادم کے بعد ہونے والی جنگ بندی کو ابھی قریب دو ہفتے ہی ہوئے ہیں۔
کیا جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنانا عجلت کا فیصلہ ہے؟
اس مختصر پاک بھارت جنگ میں دونوں ممالک میں 70 سے زائد افراد مارے گئے تھے اور اطراف نے ایک دوسرے کے خلاف فضائی حملوں اور جنگی ڈرونز کے ساتھ ساتھ میزائلوں اور زمینی توپ خانے کا استعمال بھی کیا تھا۔
پاک بھارت مذاکرات کے لیے سعودی عرب ممکنہ غیر جانبدار میزبان، شہباز شریف
پاکستان اور بھارت کے مابین اس عسکری تصادم کی وجہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پہلگام کے علاقے میں 22 اپریل کو کیا جانے والا وہ خونریز حملہ بنا تھا، جس میں مسلح عسکریت پسندوں کے حملے میں 26 بھارتی سیاح مارے گئے تھے۔
دونوں ممالک کے درمیان یہ گزشتہ چند عشروں کے دوران ہونے والا سب سے ہلاکت خیز فوجی تصادم تھا۔
نئی دہلی حکومت نے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان عسکریت پسندوں کی حمایت کرتا ہے، جنہوں نے یہ حملہ کیا تھا۔ اس کے برعکس پاکستان کی طرف سے ایسے تمام بھارتی الزامات کی تردید کی جاتی ہے۔
ادارت: شکور رحیم
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بی ایس ایف کے مطابق کے مابین بھارت کے
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔