Daily Ausaf:
2026-07-24@06:27:38 GMT

بھارت کا شور، اندرونی خوف کی گواہی

اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT

بھارت کا خود کو ایک بڑی جمہوریت کہلانے کا دعوی، بسا اوقات اس کی اپنی حرکتوں کی روشنی میں ایک بھونڈا مذاق محسوس ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب وہ خطے کے امن کو دائو پر لگا کر اپنے میڈیا اور ریاستی اداروں کے ذریعے جھوٹ، پروپیگنڈا، اور بے بنیاد الزامات کی بارش کرتا ہے، تو اس کا اصل چہرہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے خلاف بھارتی میڈیا کی زہریلی مہم، جعلی سرجیکل اسٹرائیکس اور گیدڑ بھبکیوں کی ایک طویل داستان ہے، جسے اب پوری دنیا بخوبی سمجھنے لگی ہے۔بھارتی ریاست اور اس کے پٹھو میڈیا نے ہمیشہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کےلیےپاکستان کو ایک دشمن کے طور پر پیش کیا۔ مہنگائی، بیروزگاری، کسانوں کی خودکشیاں، اقلیتوں پر مظالم اور داخلی بغاوتوں سے نظریں چرا کرہرناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا ایک آزمودہ ہتھکنڈہ بن چکا ہے۔ 2016 اور 2019 میں کیے گئے مبینہ سرجیکل اسٹرائیکس اس پروپیگنڈا مہم کا حصہ تھے۔ بھارتی صحافت اب پیشہ ورانہ دیانت داری کی علامت نہیں بلکہ ایک پروپیگنڈا مشینری کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ایسے اینکرز جو چیخ کر رپورٹنگ کرتے ہیں، حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور عوامی جذبات کو بھڑکاتے ہیں، وہ دراصل ریاستی ایجنڈے کے محافظ بن چکے ہیں۔ ان کے لیے سچ اہم نہیں، ریٹنگ اہم ہے۔ نریندر مودی کی قیادت میں میڈیا کو اس حد تک زیرِ اثر لے آیا گیا ہے کہ اب سچ بولنا ایک ”جرم” اور حکومت پر تنقید ”غداری” بن چکی ہے۔ 2019 میں بالاکوٹ کے نام پرجس حملے کاڈھنڈورا پیٹا گیا، اس میں نقصان صرف ایک درخت کو ہوا، جس کا مقدمہ بھی بھارتی حکومت کےخلاف فائل ہوا۔ پاکستانی ایئر فورس نے جوابی کارروائی میں دشمن کے دو طیارے مار گرائے اور دنیا کو بتایا کہ ہم پر حملے کی قیمت چکانا آسان نہیں۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جو اندرونی بحرانوں سے نکلنے کے لیے جنگ کا ماحول پیدا کرتا ہے، اپنے میڈیا کے ذریعے سچ کو جھوٹ میں بدلتا ہے اور عوام کو حقیقت سے دور رکھتا ہے۔ بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ اگر وہ واقعی عالمی برادری میں ایک باعزت مقام چاہتا ہے تو اسے پاکستان دشمنی کی اس خطرناک پالیسی سے باز آنا ہوگا۔پاکستانی عوام کو بھی چاہیے کہ وہ دشمن کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں۔ ہر جھوٹی خبر، ہر من گھڑت ویڈیو اور ہر مشکوک مہم کو فوری قبول نہ کریں بلکہ سچ کی تلاش کریں۔ میڈیا، تعلیمی اداروں، اور سیاسی قیادت کو مل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو پاکستان کے نظریے، خودداری اور سلامتی کا دفاع کرے۔یقین رکھیے، بھارتی بزدلانہ کارروائیاں اور گیدڑ بھبکیاں ہمیں ہماری منزل سے نہیں ہٹا سکتیں۔ ہم نے اس وطن کو قربانیوں سے حاصل کیا ہے اور اسی جذبے سے اسے قائم و دائم رکھیں گے۔ دشمن کی ہر سازش، ہر چال اور ہر نفسیاتی حملے کو ناکام بنانے کا عزم ہماری رگوں میں دوڑتا ہے۔ ہم پرامن قوم ہیں، مگر جب بات وطن کی ہو تو ہم سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ میڈیا کی جنگ اب محض ٹی وی چینلز اور اخبارات تک محدود نہیں رہی۔ سوشل میڈیا بھی ایک طاقتور ہتھیاربن چکا ہے اور دشمن اس پلیٹ فارم کو بھی خوب استعمال کرتا ہے۔ جعلی اکائونٹس، گمراہ کن ویڈیوز، جھوٹی خبریں اور سوشل انجینئرنگ کے ذریعے ہمارے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بھارت کی سائبر وارفیئر حکمتِ عملی کا بڑا حصہ یہی ہے کہ وہ پاکستان میں انتشار پھیلائے، قوم کو اداروں کے خلاف کرے اور عوام کو مایوس کرے۔ ہمیں ان ہتھکنڈوں سے خبردار رہنا ہوگا، اپنے سوشل میڈیا استعمال میں ہوشیاری سے کام لینا ہوگااور ہر خبر کو بغیر تحقیق کے آگے پھیلانے سے گریز کرنا ہوگا۔
دشمن کو سب سے زیادہ خوف ہماری یکجہتی، ایمان اور حب الوطنی سے ہے۔ بھارت جانتا ہے کہ جب پاکستانی قوم متحد ہو جاتی ہے تو وہ ہر جارحیت کو خاک میں ملا دیتی ہے۔ چاہے وہ سرحدوں پر ہو یا معیشت میں، تعلیمی میدان ہو یا سفارتی محاذ، پاکستانی قوم نے ہر جگہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ ہمارے اندرونی اختلافات کوہوادے تاکہ ہم اپنی اصل طاقت یعنی اتحاد کو کھو دیں۔ مگر پاکستان ایک نظریہ کانام ہے،ایک شعور کا استعارہ ہے، قربانیوں سے مزین ایک سرزمین ہے۔ اس کے باسیوں نے لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر ملک حاصل کیا تھا اور وہی نظریہ آج بھی ہمیں جوڑ کر رکھے ہوئے ہے۔ دشمن کی گیدڑ بھبکیاں نہ کل ہمیں خوفزدہ کر سکیں، نہ آج کر سکتی ہیں اور نہ ہی کل کر سکیں گی۔ اگر دشمن کو ہم سے خطرہ ہے تو وہ ہماری فوج سے زیادہ ہماری عوام کے جذبے سے ہے کیونکہ جب قوم کا ہر فرد ایک سپاہی بن جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے جھکا نہیں سکتی۔پاکستان نے ہمیشہ دنیا کو امن، دوستی اور باہمی احترام کا پیغام دیا ہے۔ ہم نے امن کی خواہش کو کمزوری نہیں بننے دیا، بلکہ دشمن کو یہ باور کرایا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں، لیکن عزت کے ساتھ۔ ہم کسی سے جنگ نہیں چاہتے، مگر اگر جنگ مسلط کی گئی تو ہر میدان میں مقابلہ کریں گے، چاہے وہ سرحد ہو، سفارتی فورم ہو یا میڈیا کی جنگ۔ دشمن کو ہر جگہ شکست دیں گے، کیونکہ ہمارے پاس نہ صرف حق ہے بلکہ وہ قوت بھی ہے جو سچائی کی حفاظت کرتی ہے۔ہمیں نہ تو بھارتی میڈیا کی گیدڑ بھبکیوں سے ڈر ہے، نہ اس کی فوجی چالاکیوں سے خوف ہے۔ہمارے پاس نہ صرف مضبوط افواج ہیں بلکہ ایک باشعور قوم بھی ہے، جو سچ اور جھوٹ میں فرق جانتی ہے، جو ہر آزمائش میں اپنے وطن کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی۔ بھارت کی بزدلی، اس کی جھوٹی اکڑاور میڈیا کی چیخ وپکار دراصل اس کی کمزوریوں کا عکس ہے۔وقت آ چکا ہے کہ دنیا بھارت کے اصل چہرے کو پہچانے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جو خود کو جمہوریت کا گڑھ کہتا ہے مگر صحافت، اقلیتوں اور ہمسایہ ممالک کے خلاف نفرت انگیز اقدامات سے باز نہیں آتا۔ اس کا میڈیا ایک خوفزدہ قوم کی چیخ ہےجو خود کو مضبوط دکھانا چاہتی ہے مگر اندر سے ٹوٹ چکی ہے۔ پاکستان کا مستقبل روشن ہے، کیونکہ ہم امن چاہتے ہیں، ترقی چاہتے ہیں اور دنیا میں ایک مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ دشمن کی بزدلی ہمیں نہ کبھی روک سکی ہے، نہ روک سکے گی کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جو قربانی دینا جانتی ہے اورجو ڈٹ جانا جانتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: چاہتے ہیں میڈیا کی دشمن کو ہے اور

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا