غزہ میں انسانی بحران “سخت ترین مرحلے” میں داخل ہو چکا ہے، امدادی راستوں کو مکمل کھولا جائے، اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوئتریس نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ غزہ میں موجودہ انسانی بحران” سخت ترین ” مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
گوئتریس نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت امداد میں کئی رکاوٹیں در پیش ہیں جس میں کوٹہ، منظوری کا طریقہ کار، ایندھن ، پناہ گاہ، کھانا پکانے کیلئے گیس اور صاف پانی کی فراہمی سے متعلق اہم مواد پر مکمل پابندی شامل ہیں۔
گوئتریس نے یہ بھی ذکر کیا کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں، جس کی وجہ سے جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی ہو رہی ہے۔ اس وقت غزہ کے 80 فیصد علاقے اسرائیلی فوجی کنٹرول یا انخلاء والے علاقے کے طور پر نشان زد ہیں، جو غزہ کے لوگوں کے لیے “ممنوعہ زون”ہیں ۔
گوئتریس نے اقوام متحدہ کے تین بنیادی مطالبات کو دوبارہ دہرایا جس میں مستقل فائربندی، فوری اور بغیر شرط کے تمام حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی، اور انسانی امدادی راستے کو مکمل طور پر کھولنا شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ گوئتریس نے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔