Express News:
2026-07-24@07:47:14 GMT

غزہ میں قحط کا ذمے دارکون؟

اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT

اپنے عہد کے ترقی پسند شاعر ساحر لدھیانوی نے آج کی دنیا میں جنگی جنون کی کیفیت میں درست پیش بندی کی تھی کہ سرمایہ دارانہ منافع اور ہتھیاروں کی خرید و فروخت کی قوتیں دنیا میں جنگوں کی منڈی لگا کر صرف انسانی المیوں کو جنم دیں گی۔آج فلسطین/غزہ میں مفادات کے تین سفاک گروہ امریکا ، اسرائیل اور حماس جنگ کی ہولناکیوں میں مصروف رہ کر فلسطین اور غزہ میں موت اور قحط بانٹ رہے ہیں، مگر امن کی خاطر جنگ کا خاتمہ کرنے پر تیار نہیں، اس پوری صورتحال میں ساحرکے یہ اشعار جنگی جنونیوں کے منہ پر بھرپورطمانچہ ہیں کہ!

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے

جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

آگ اور خون آج بخشے گی

بھوک اور احتیاج کل دے گی

اسرائیل اور حماس بطور خاص غزہ کے بھوک و پیاس سے بلکتے بچے اور خاندانوں کی زندگیاں چھین کر بے حسی اور جنگی جنونیوں کی مفاد پرستی کا وہ خطرناک کھلواڑ کر رہی ہیں جس کا شکار ہوکر غزہ کے معصوم بچے قحط سالی کا عذاب جھیل رہے ہیں جب کہ انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور اقوام متحدہ صرف غزہ کے بھوک و پیاس سے ترستے افراد کے اعداد و شمار بتانے کو ہی اپنا فرض سمجھ رہے ہیں جب کہ عالمی طور سے اقوام متحدہ کا یہ ادارہ اب تک جنگی جنون میں مبتلا امریکا،اسرائیل اور حماس کو جنگی خرمستیوں سے باز رکھنے کی کوئی سبیل نہ نکال پایا ہے۔ 

انقلاب روس کے بانی ولادیمر لینن نے اقوام متحدہ کے ادارے کے بارے میں درست ہی کہا تھا کہ’’ یہ سرمایہ دار اقوام کی وہ ایسوسی ایشن یا گٹھ بندھن ہے جو دراصل سرمایہ دار ممالک کے مفادات کو تحفظ دینے اور عوام کی معاشی تنگ دستی کا مذاق اڑانے کا وہ سفاک ذریعہ ہے جس کا آخرکار فائدہ استحصالی سرمایہ دار سامراج ہی اٹھاتا ہے۔‘‘

آج کی دنیا میں اسرائیل فلسطین جنگ کے تناظر میں لینن کا اقوام متحدہ کے ادارے کے بارے میں کیا گیا تجزیہ درست ثابت ہو رہا ہے۔یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں کہ فلسطین کو آزادی دلانے کی جدوجہد میں جب دنیا کی جمہوری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں سر جوڑکر فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے لیے یکَسو تھیں تو عین اس وقت یعنی 1987 میں فلسطین میں شیخ یاسین کی سربراہی میں تنظیم ’’حماس‘‘ کو بنوایا گیا اور طویل عرصے سے فلسطین کی آزادی کے لیے جمہوری تقاضوں کے مطابق جدوجہد کرنے والی ’’ الفتح‘‘ کے مقابل ’’حماس‘‘ کے ذریعے مسلح سیاست کو روشناس کروایا گیا۔

حماس دو مختلف سمتوں (مزاحمت اور تعمیرکے نعرے) کے تحت آج بھی فلسطین کی حکومت کے زیر اثر خود اپنی آزادانہ حکمت عملی اپناتی ہے،کم و بیش 15 ماہ قبل جب فلسطین میں ’’حماس‘‘ نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اس وقت بھی فلسطین کی موجودہ حکومت کو حماس نے اعتماد میں نہیں لیا تھا۔

اس سوال کو سمجھنے کے لیے ہمیں 15 ماہ پہلے حماس کی جانب سے اسرائیل پر اچانک حملے کا پس منظر نظر میں لانا ہوگا اس وقت ہی میں نے لکھا تھا کہ ’’حماس کی جانب سے یہ حملہ پینٹاگون کی آشیرباد سے کروایا گیا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کے اہم ترین ملک سعودی عرب، ایران، روس اور چین کے ممکنہ بلاک بننے کے عمل کو رکوا کر سعودی عرب اور دیگر ممالک کو اسرائیل کی جنگی طاقت کا جنون دکھایا جائے تاکہ امریکی بلاک کے مقابل روس، چین، سعودی عرب اور ایران کا ممکنہ بلاک بننے سے روکا جائے اور ان کی قربتوں کو کمزورکرکے مشرق وسطیٰ اور ایشین ممالک کے مابین اس اہم اتحاد کو تباہ و برباد کیا جائے تاکہ ایشیا اور مشرق وسطیٰ مل کر معاشی طور سے امریکی خرمستیوں سے چھٹکارا نہ پاسکیں اور مستقبل میں خطے کو معاشی استحکام دلوا کہیں خطے میں امریکی لوٹ کھسوٹ کے لیے خطرہ نہ بن پائیں۔

دوسری جانب اسرائیل، حماس اورکسی قدر ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے امریکی مقاصد کے لیے وہ کام کیا جس کے لیے نئے بلاک بننے کی اہم پیش رفت کو روکنے کی شدید ضرورت نظر آتی ہے، اس تناظر میں اسرائیل نے امریکی جدید ہتھیاروں کی مدد سے ایک ایسے لے پالک بیٹے کا کردار ادا کیا جس نے مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے مستحکم بننے والے اتحاد میں وقتی دوری پیدا کردی جس کے لیے ان مذکورہ ممالک کو شاید اب دوبارہ ازسرنو کوششیں درکار ہوں گی۔

اسرائیل کے جنگی جنون سے لاکھوں فلسطینی اور غزہ کے باشندوں کی بلاجواز ہلاکت بے گھری اور غزہ کے اپاہج ہو جانے والے افراد کی داد رسی کیسے ہوگی یا جنگ مسلط کرنے کی سزا اسرائیل یا دیگرگروپس کو عالمی دنیا یا عالمی انصاف کیسے دے گا، یہ آج کا سب سے اہم سوال ہے؟یاد کیجیے بقول مذہبی جنونی جب یہ معرکہ ’’حق و باطل‘‘ حماس نے شروع کیا تو اس وقت خطے کی صورتحال میں چائنا کی ڈپلومیسی زوروں پر تھی۔ چائنا افغانستان حکومت کو ساتھ ملا کر امریکا ابوظہبی انڈیا ٹرائیکا کے لیے افغانستان میں تجارتی اور فوجی تعلقات کے محاذ پر پسپا ہوچکا تھا۔

ایران اور پاکستان مل کر انڈین پشت پناہی پر چلنے والی بلوچ انسرجنسی اورکیمپس کو ایکسپوزکر رہے تھے یعنی سی پیک روٹ کوکلیئرکیا جا رہا تھا،گوادر تک پہنچنے والے راستے صاف کیے جا رہے تھے۔ جس وقت اسلام آباد میں بلوچ مسنگ پرسنزکی تصاویر اٹھائے دھرنا ہو رہا تھا عین اس وقت ایران ان ’’مسنگ پرسنز‘‘ کی فہرست مع تصاویر جاری کی جا رہی تھیں جو ایرانی علاقے میں بلوچ سرحد کے قریب دہشت گردی کے تربیتی کیمپ جمائے بیٹھے تھے۔

دوسرے روز پاکستانی فوج ایران کی حدود میں اس کیمپ پر بمباری کرتی رہی اور ایرانی حکومت خاموش احتجاج بھی نہیں کرپائی۔ عقلمند کو اشارہ کافی کے مصداق دونوں حکومتوں میں اس تعاون کی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایران سعودیہ باہمی سفارت بحال کروا کر تجارتی روابط اور ’’دوستی‘‘ بحال کروائی جا رہی تھی۔

یاد کیجیے وہ تصویر جس میں چینی ذمے دار درمیان میں کھڑے ہوکر ایران اور سعودی مندوبین کا مصافحہ کروا رہے تھے۔ روس اور چین نیا علاقائی بلاک تقریباً بنا چکے تھے اور امریکا کے لیے خطے کے تمام انٹری پوائنٹس یکے بعد دیگرے بند ہوتے جا رہے تھے، لیکن پھر اچانک ایک روز حماس اسرائیل معرکے کا آغاز ہوجاتا ہے۔ چائینیزگریٹ گیم جہاں تھا، وہیں رک جاتا ہے۔ ایران سعودیہ دور ہوجاتے ہیں۔

سارا پروسس ٹھپ ہوجاتا ہے اور پھر اس پروسس کو ٹھکانے لگانے کے بعد ایک روز حماس اور اسرائیل میں جنگ بندی معاہدہ ہوجاتا ہے۔ اس پوری کہانی کے بعد دہشت گرد کہلائی جانے والی ’’حماس‘‘ کے حملے کی آڑ میں غزہ اور فلسطین کے ہزاروں بے گناہ مارے جاتے ہیں اور حماس بے گھر اور دربدر ہو جانے والوں کے رستے زخموں کی داد رسی کرنے کے بجائے ’’جشن‘‘ منا کر بھی دہشت گرد اسرائیل کی بمباری نہ رکوا سکی؟

جنگ بندی کی کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہو سکی ہیں جب کہ اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی کوششوں کو اسرائیل اور امریکا جوتے کی نوک پر رکھ کر غزہ میں قحط سالی ایسے غیر انسانی المیے کا باعث بن رہے ہیں،جس میں حماس اپنی مفاد پرستانہ پالیسیوں سے یہ باورکروا رہی ہے کہ وہ امریکا اسرائیل کے گٹھ جوڑ کا حصہ ہے، گویا غزہ کے عوام اور فلسطینیوں پر اب بھی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں جس کی بظاہر ذمے دار ’’حماس‘‘ نظر آتی ہے جب کہ بادی النظر میں ’’حماس‘‘ کی اسرائیلی مدد کے شاخسانے اس قحط زدہ غزہ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

اس اہم موڑ پر غزہ کی جنگ بندی اب تک کیوں کامیاب نہیں ہو سکی ہے، اس کی وجوہات کی تلاش کی جائے تو اس اسرائیل حماس گٹھ جوڑ کی بظاہر جنگ میں کامیابی کے نتیجے میں حماس کے سنجیدہ رہنما اسماعیل ہانیہ،حزب اسلامی کے رہنما نصراللہ، ایران کے کمانڈر ابرہیم عقیل اور صدر رئیسی کی وہ اموات ہیں جن کا سراغ دنیا کے امن کے پرچارک ممالک بطور خاص امریکا،حماس اور ایرانی حکومت اب تک لگانے میں ناکام نظر آتی ہیں۔

ساری دنیا کو نظر آرہا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ اور عجم کے ان ممالک کو دیدہ دلیری سے نشانہ بنا رہا ہے جو خطے میں امریکا گٹھ جوڑ کی راہ میں کسی نہ کسی سطح پر ممکنہ مزاحمت کر سکتے تھے، مشرق وسطی کی اس خونین تباہی پر اسرائیل کو یورپ سمیت امریکا کی وہ تھپکیاں واضح نظر آرہی ہیں جن کی بنا پر اسرائیل پورے مشرق وسطی میں قابو نہ آنے والے گھوڑے کی مانند دندنا رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کا کوئی ملک اس قابل نظر نہیں آتا کہ وہ اسرائیل کو لگام ڈال سکے۔

آخری تجزیے میں نظر آرہا ہے کہ غزہ کے بے گناہ عوام بچوں اور خواتین کی جنگ کے بہانے جہاں موت کے ذمے دار اسرائیل اور حماس ہیں، وہیں غزہ کے آفت زدہ بچوں کی غذائی قحط کے ذمے دار بھی بادی النظر میں یہ دو قوتیں یعنی اسرائیل اور حماس لگتی ہیں، جن کی پشت امریکی ٹرمپ حکومت تھپتھپا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیل اور حماس اقوام متحدہ سرمایہ دار جنگی جنون نے والے رہے تھے رہے ہیں رہا ہے کی جنگ غزہ کے کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع

آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

مظفرآباد (آئی پی ایس )آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے شہر میرپور اور اس کیگردونواح میں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسزبحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا ہے۔ اس حوالے کچھ دیر قبل چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اطلاعات ہیں کہ میرپور آزاد کشمیرمیں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رابطہ جلد بحال کردیا جائیگا۔

ان کا کہنا تھا کہ امید ہے مظفرآباد اور دیگرعلاقوں کے حوالے سے ہماری درخواستیں بھی جلد منظور کرلی جائیں گی۔ واضح رہے میرپور آزادکشمیر میں گزشتہ 45 دن سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرامریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی اگلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم