ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کا فلسطین پر حملہ سنگین جرم ہے، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے حکومت نے کوشش کی تو جماعت اسلامی مزاحمت کو لیڈ کرے گی، جماعت اسلامی اسرائیل کو تسلیم کرنے پر پوری مزاحمت کرے گی،وزیر اعظم نوٹس لیں پالیسی واضح ہے دو ریاستی حل کی بات کرتے ہیں، حماس نے جس زمین پر حملہ کیا تو 181 کے تحت اسی کی تھی،اسرائیل کیخلاف مزاحمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے منصورہ لاہور میں لیاقت بلوچ، امیر العظیم سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بین الاقوامی و قومی سطح پر مسائل ہیں، فلسطین میں روزانہ کی بنیاد پر امریکی بیانات آ رہے ہیں، جنگی بندی ہو جائے گی لیکن مسلسل اسرائیلی دہشتگردی ہو رہی ہے، روزانہ سو سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا جا رہا ہے، بچوں اور کھانا لینے والوں پر بمباری کی جا رہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی امداد میں اضافہ کر دیا ہے، اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو اسے شاندار کارنامہ انجام دیا اور پھر کانگریس سے پوچھے بغیر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا، ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کا فلسطین پر حملہ سنگین جرم ہے، امریکہ سیز فائر کروا کر نوبل انعام حاصل کرتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ امریکہ کا منافقانہ کردار دنیا کے سامنے آیا تو پاکستان امریکہ پر دبائو ڈالے، اسرائیل دہشت گرد ملک بن کر دنیا کے سامنے آیا ہے، ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کر سکتے ہیں، جس وزیر نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی گفتگو کی، قوم بھرپور مزاحمت کرے گی۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے حکومت نے کوشش کی تو جماعت اسلامی مزاحمت کو لیڈ کرے گی، جماعت اسلامی اسرائیل کو تسلیم کرنے پر پوری مزاحمت کرے گی،وزیر اعظم نوٹس لیں پالیسی واضح ہے دو ریاستی حل کی بات کرتے ہیں، حماس نے جس زمین پر حملہ کیا تو 181 کے تحت اسی کی تھی،اسرائیل کیخلاف مزاحمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل کو تسلیم کرنے اسرائیل کو تسلیم کر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ پر حملہ کیا مزاحمت کو حافظ نعیم کرے گی
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔