وقت کے یزیدوں کیخلاف ڈٹ جانے کا نام حسینیت ہے‘کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈومحمد خان(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ غلبہ حق، ظلم اور وقت کے یزیدوں کے خلاف ڈٹ جانے کا نام حسینیت ہے، واقعہ کربلا پوری امت کو یہ درس ملتا ہے کہ دعوت دین کے راستے میں ا ٓنے والی تمام مشکلات کا صبر واستقامت کے ساتھ مقابلا کرنا چاہیے،یومِ عاشور دراصل تذکیر کا دن ہے کہ پوری قوم ایک بار پھر سے عدل وانصاف اور غلبہ دین کے لیے اسوہ حسینؓپر عمل پیرا ہونے کا عہد کرے۔ نواسہ رسولؓ کی شہادت سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ باطل قوتوں کے مقابلے کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے جس طرح سے آج غزہ کے مسلمان اپنی جانوں اور مال کے ساتھ بے مثال قربانی پیش کررہے ہیں۔ قوم آج یزیدی نظام کے خلاف اٹھنے کا عہد کرے، اس سے ملکی استحکام اور خوشحالی دونوں نصیب ہوں گی۔ امام حسین ابن علیؓ کی عظیم قربانی انسانیت کے دلوں پر ہے جو ظلم و جبر اور آمریت کے خلاف اٹھنے کا شعور دیتی ہے۔ کربلا کے ریگزاروں سے حسینیت کے شعور کا جو پودا پھوٹا وہ قیامت تک پوری انسانیت کو دائمی امن، سلامتی، جمہوریت اور انصاف کی چھاؤں دیتا رہے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوری آباد بلال مسجد میں شہادت امام حسینؓ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع صوبائی نائب امیر حافظ نصراللہ عزیز،جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری محمد یوسف،ڈپٹی جنرل سیکرٹری الطاف احمد ملاح اور ضلعی امیر حافظ لعل محمد سولنگی نے بھی خطاب کیا۔ کاشف سعید شیخ نے مزید کہا کہ حق کے غلبے اوربدی کے خلاف جدوجہدپیغام شہادت حسین ؓ ہے، جنہوں نے اپناسب کچھ قربان کرکے ملوکیت کے خلاف اورخلافت کے نظام نبی مہربانؐ کے مشن کو جاری رکھنے کے لیے میدان کربلامیں ڈٹ کریزیدیت کا مقابلا کیا۔جماعت اسلامی بھی روز اول سے پاکستان میں خلافت کا نظام لانے کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے نام پر عوام کے حقوق پرڈاکا اوراسلام کا مذاق اڑایا جارہا ہے،دستور پاکستان میں واضح طورپر لکھاہوا ہے کہ ملک میں قرآن وسنت کے خلاف کوئی بھی قانون سازی نہیں ہوگی مگرسودی نظام سے لیکربے حیائی تک ہمارے معاشرے و ملک میں سب کچھ اسلا م کے روح کے خلاف ہورہا ہے۔جمہوریت کے نام پر قوم سے مذاق کیا جارہا ہے، ملک میں ہائبرڈ نظام کے نام پر مارشل لا نافذ ہے اور تمام اداروں پر قبضہ کرکے ملت فروش،دین فروش آئی ایم ایف اور امریکی سامراج کے غلام حکمرانوں کو قوم پر مسلط کردیا گیا۔پاکستان میں قرآن وسنت کانظام خلاف کا نظام اوردین کابول بالا ہونا چاہیے، جماعت اسلامی حسینی مشن کو آگے لے کرمیدان عمل میں جدوجہد کر رہی ہے۔محرم الحرام صبروتحمل ایثارقربانی اورامت کے اتحاد کا مہینہ ہے۔ وطن عزیز میں آئی ایم ایف کے اشاروں پر غریب کا لہو نچوڑ کراپنی لیے عیاشیوں کا سامان اور محلات کے چراغ جلا ئے جاتے ہیں، امام حسین ؓکا پیغام ظلم کے خلاف لڑائی ہے،اس ملک میں جتنے حکمران بھی آئے وہ ووٹ سے نہیں بلکہ سلیکشن سے آئے۔ امام عالی مقام کا امت کے نام پر یہ پیغام ہے ظلم اور جبر کا مقابلہ کرو۔ کاشف سعید شیخ نے مزید کہا کہ اس وقت کے فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے بند کمروں میں ہوتے ہیں، کربلا کا درس یہ ہے کہ اصل زندگی خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردینا ہے، میدان کربلا میں امام حسین ؓاور خانوادہ رسول ؐ کی قربانیوں کا اصل حقیقی پیغام ہے۔
امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نوری آباد میں جامع مسجد بلال میںایک روزہ تربیت گاہ اور ٹنڈو محمد خان میں مسجد جنت الفردوس باقر نظامانی میں شہادت امام حسینؓ کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کاشف سعید شیخ جماعت اسلامی پاکستان میں کے نام پر کے خلاف ملک میں کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔