خان یونس (غزہ): غزہ کے شہر خان یونس میں ایک دل دہلا دینے والے اسرائیلی فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے 9 بچے شہید ہو گئے۔ 

غزہ کی شہری دفاعی ایجنسی کے ترجمان محمود باسل نے بتایا کہ یہ بچے ڈاکٹر حمدی النجار اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر علاء النجار کے تھے۔ دونوں ڈاکٹر غزہ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

ترجمان کے مطابق حملے کے وقت والد حمدی النجار نے اپنی اہلیہ کو ناصر اسپتال ڈیوٹی پر چھوڑا تھا اور گھر واپس پہنچتے ہی میزائل حملہ ہوا۔ ان کے ایک اور بیٹے 10 سالہ آدم اور والد شدید زخمی حالت میں ہیں۔

واقعے کی ویڈیو میں شدید جلے ہوئے بچوں کی لاشیں دکھائی گئی ہیں جنہیں ملبے سے نکالا گیا۔ بچوں کی نماز جنازہ ناصر اسپتال میں ادا کی گئی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ان کا ہدف ایک ایسی عمارت تھی جہاں مشتبہ افراد موجود تھے۔ انہوں نے خان یونس کو "خطرناک جنگی علاقہ" قرار دیا اور کہا کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں پر "جائزہ لیا جا رہا ہے"۔

حماس کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البورش نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب حمدی النجار اپنی اہلیہ کو اسپتال چھوڑ کر گھر لوٹے۔ انہوں نے کہا، "غزہ میں صرف ڈاکٹر نہیں، پورے خاندان بھی نشانے پر ہیں۔"

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق