UrduPoint:
2026-06-03@05:33:01 GMT

بھارت چین پر ایپل کا انحصار کم کرنے میں معاون؟

اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT

بھارت چین پر ایپل کا انحصار کم کرنے میں معاون؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 25 مئی 2025ء) امریکی ٹیک کمپنی ایپل نے اس ماہ کہا کہ بھارت امریکی مارکیٹ کے لیے آئی فونز بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ایپل کے سی ای او ٹم کُک نے چند روز قبل اپنی کمپنی کے تازہ ترین مالی نتائج کے اعلان کے ساتھ کہا تھا کہ امریکی میں فروخت ہونے والے زیادہ تر آئی فونز اسمبل کرنے والا ملک بھارت ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی میں فروخت ہونے والے تقریباً تمام آئی پیڈز، میک کمپیوٹرز، ایپل واچز اور ایئر پوڈز ویتنام میں تیار کیے جائیں گے۔

یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر عائد محصولات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کیا گیا۔ ٹرمپ کے محصولات نے ایپل کی سپلائی چین، فروخت اور منافع کو بھی متاثر کیا ہے۔

(جاری ہے)

بھارت میں آئی فون کی پیداوار میں اضافے کے مواقع اور چیلنجز

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک فنانس اینڈ پالیسی کی سینیئر ماہر اقتصادیات لیکھا چکرورتی کا کہنا ہے کہ ایپل کا بھارت میں پیداوار بڑھانے کا فیصلہ نہ صرف ایک بڑا موقع ہے بلکہ اس کے ساتھ کچھ ممکنہ چیلنجز بھی موجود ہیں۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ایک تفصیلی تجزیہ بتاتا ہے کہ ان چیلنجز میں چین کے مقابلے میں لاگت کی مسابقت، لیبر مارکیٹ کی سختیاں اور سپلائی چین کی کمزوریاں شامل ہیں۔

‘‘

چکر ورتی نے مزید کہا کہ بھارت میں آئی فون بنانا چین کے مقابلے میں پانچ سے دس فیصد زیادہ مہنگا ہے کیونکہ پرزے مہنگے ہیں اور فیکٹریوں کی کارکردگی نسبتاً کمزور ہے، ''مزید یہ کہ اس سرمایہ کاری کے مالیاتی اثرات کا محتاط جائزہ لینا ضروری ہے، خاص طور پر ٹیکس محصولات، انفراسٹرکچرز میں سرمایہ کاری اور ممکنہ سبسڈیز کے حوالے سے۔

‘‘ بھارت میں آئی فونز کی پیداوار میں اضافہ

اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس وقت بھارت میں بننے والے آئی فونز کی تعداد 20 فیصد ہے۔ بلومبرگ کے مطابق ایپل نے مارچ 2025ء تک بھارت میں22 ارب ڈالر مالیت کے آئی فون تیار کیے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں60 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
امریکی کمپنی کا منصوبہ ہے کہ سن 2026 تک بھارت میں سالانہ 60 ملین سے زائد آئی فونز تیار کیے جائیں، جو موجودہ پیداوار کا دوگنا ہو گا اور بھارت کی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ صنعت کو مضبوط بنائے گا۔

چین سے الگ ہونا، ایک بڑا چیلنج

یہ تبدیلی ایپل کے لیے ایک بڑا فیصلہ ہے، جس نے ہمیشہ اپنی مصنوعات چین میں تیار کی ہیں۔ لیکن ٹرمپ کی جانب سے امریکی درآمدات پر عائد بھاری محصولات، خاص طور پر چین کے ساتھ تجارتی جنگ کے دوران، اس کمپنی کے لیے مشکلات پیدا کر رہی تھیں اور اسے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

تاہم امریکی صدر نے ٹیکنالوجی مصنوعات، بشمول اسمارٹ فونز اور سیمی کنڈکٹرز کو محصولات سےعارضی طور پر استثنیٰ دے دیا ہے۔
اس سلسلے میں واشنگٹن اور بیجنگ نے بھی حال ہی میں نوے روزہ مفاہمت پر اتفاق کیا ہے۔

عاطف توقیر / مرلی کرشنن

ادارت: عاطف بلوچ

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بھارت میں آئی فونز تیار کی کے لیے

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی