چین، 20ویں ویسٹرن چائنا انٹرنیشنل ایکسپو کا آغاز ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
چین، 20ویں ویسٹرن چائنا انٹرنیشنل ایکسپو کا آغاز ہو گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 25 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ : 20ویں چائنا ویسٹرن انٹرنیشنل ایکسپو چین کے صوبہ سی چھوان کے شہر چھنگ ڈو میں شروع ہوئی۔ اتوار کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ اس ایکسپو کا موضوع ” اصلاحات کو گہرا کرنا، ترقی کو فروغ دینا اور کھلے پن کو وسعت دینا” ہے۔ 5 دن تک جاری رہنے والی اس ایکسپو میں 62 ممالک اور خطے، چین کے 27 صوبوں سے 3 ہزار سے زائد کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں ۔
رواں سال کی ایکسپو اعلیٰ سطح کے کھلے پن کو وسعت دینے، علاقائی تبادلوں اور تعاون کو مزید گہرا کرنے ،جدید صنعتی نظام کی تعمیر کو فروغ دینے اور دوطرفہ تجارتی تعاون کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔
ایکسپو کے ذریعے صوبہ سی چھوان اور “بیلٹ اینڈ روڈ” میں شریک ممالک اور برادر صوبوں کے درمیان روابط کو مزید بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
اس کے علاوہ تین بڑے نمائشی علاقوں کی 15 تھیم پر مبنی نمائشی ہال قائم کیے گئے ہیں، جو مغربی چین میں کھلے پن اور تعاون، مغربی چین کی صنعت میں نئی توانائی، اور مغربی چین میں بہتر زندگی کے موضوعات پر محیط ہیں۔
ان نمائش گاہوں کا کل رقبہ 2 لاکھ مربع میٹر ہے، جہاں دنیا بھر کی تازہ ترین سائنسی و تکنیکی کامیابیوں اور خصوصی صنعتوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراتحاد کے ذریعے ہی ہم جیت کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں، چینی صدر اتحاد کے ذریعے ہی ہم جیت کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں، چینی صدر عاطف اکرام شیخ کی زیر صدارت ایف پی سی سی آئی کی ایگزیکٹیو اور جنرل باڈی کے اجلاس، موجودہ عہدیدران کی مدت میں ایک... حکومت اب بجلی نہیں خریدے گی، وزیراعظم جلد نیشنل ٹیرف پالیسی کا اعلان کریں گے: وزیر توانائی امریکہ کی چینی ساختہ چپس پر پابندی لگانے کی کوشش ماضی میں کامیاب نہیں ہوئی، چینی میڈیا میڈ اِن چائنا” سے لے کر “چین میں تخلیق” تک کی ترقی کوبین الاقوامی کاروباری برادری نے سراہا ہے کینیا-چین دوستانہ تعاون سے کثیرالجہتی شراکت داری کیلئے پرامید ہیں ، صدر کینیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔