پتوکی: ریٹائرڈ اسکول ٹیچر کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
پنجاب کے ضلع پتوکی میں ریٹائرڈ اسکول ٹیچر کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اغوا کے بعد قتل کیے گئے ریٹائرڈ اسکول ٹیچر کی لاش کھیتوں سے برآمد ہوئی، مقتول محمد ذوالفقار نے ملزم اقبال کو سود پر رقم دے رکھی تھی، ملزم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ سود سے تنگ آکر قتل کیا۔
پولیس نے کہا کہ پتوکی کی رہائشی نائلہ ریاض نے اپنے 61 سالہ خاوند محمد ذوالفقار کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا، اغوا کا مقدمہ درج ہونے کے چند گھنٹوں کے بعد پولیس کو مغوی محمد ذوالفقار کی ڈیڈ باڈی ملی۔
پتوکی پولیس کے مطابق ملزم نے جسم کے مختلف حصوں پر چھریوں کے وار کر کے قتل کیا اور لاش کھیتوں میں پھینک دی۔
ڈی پی او محمد عیسیٰ خاں نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی پتوکی اور ایس ایچ او سٹی پتوکی کو فوری ملزمان کو ٹریس کرنے کی ہدایت کی، پولیس ٹیم نے چند گھنٹوں میں ملزم اقبال کو ٹریس کر کے گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم اقبال نے سود پر مقتول ذوالفقار سے ڈیڑھ لاکھ کی رقم حاصل کی اور 19 ماہ اقساط ادا کر رہا تھا۔
پولیس نے کہا کہ سود کی رقم ادا کرنے سے تنگ آ کر 61 سالہ ذوالفقار کو چھریوں کے وار کر کے قتل کیا اور اس کا موبائل فون نالے میں پھینک دیا، تھانہ سٹی پتوکی پولیس نے ملزم کو حراست میں لیکر مزید تفتیش شروع کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔