پاکسان بزنس کونسل نے بجٹ کیلئے 10 نکاتی ایجنڈا حکومت کو ارسال کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
کراچی:
پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے وفاقی حکومت کو درآمدی ٹیرف میں کمی سمیت بجٹ کے لیے 10نکاتی ایجنڈا ارسال کر دیا۔
پاکستان بزنس کونسل نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ مجموعی قومی پیداوار کے ذریعے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ کیا جائے، ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے خام مال کے درآمدی ٹیرف کو کم کیا جائے۔
پی بی سی نے حکومت سے کہا ہے کہ بزنس ٹرن اوور کے بجائے منافع پر عائد کیا جائے، مقامی سپلائرز کو زیرو ریٹنگ جی ایس ٹی کی سہولت فراہم کی جائے اور ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کو باقاعدہ اپڈیٹ کیا جائے۔
تجاویز میں تنخواہ دار ملازمین پر ٹیکس کی شرح میں کمی، ٹیکس نیٹ میں وسعت کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹیکس نظام میں اصلاحات کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
پاکستان بزنس کونسل نے کہا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سمیت خسارے والے سرکاری اداروں کی فوری طور پر نج کاری کی جائے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کوافراط زر سے منسلک کرکے اضافی نفری کو کم کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بزنس کونسل کیا جائے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔