40 من وزنی بیل ’’جے ایف 17 تھنڈر‘‘ کتنی بڑی قیمت میں فروخت ہوا، یہ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔

ملک میں عید الاضحیٰ کی آمد ہے اور اس سے قبل تمام چھوٹے بڑے شہروں میں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کا عمل تیز ہو چکا ہے۔ کئی مقامات پر مویشی منڈیاں قائم ہو چکی ہیں جب کہ چوراہوں اور دیگر جگہوں پر بھی بکروں سمیت دیگر قربانی کے جانور فروخت کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح گلیوں  اور محلوں میں عیدالاضحیٰ سے قبل جانوروں کے رہنے کی جگہ، بچوں کے جانور گھمانے کی آوازیں اور چارہ و دیگر نمائشی اشیا بیچنے والے اسٹال جا بجا نظر آ رہے ہیں۔

تازہ اور حیرت انگیز خبر حیدر آباد سے ہے، جہاں لیاقت کالونی میں ایک 40 من وزنی بیل ’’جے ایف 17 تھنڈر‘‘کے نام سے مشہور ہوا، جسے مویشی کے تاجر شاہ رخ نے فروخت کے لیے پیش کیا۔ اس بیل کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی اور حیرت انگیز طور پر یہ سودا طے پا گیا۔

رخصتی کی تقریب

بیل کی رخصتی کے موقع پر شاہ رخ نے ایک پنڈال سجایا، جہاں خریدار اور ان کے ہمراہ آنے والے افراد کی خوب خاطر تواضع کی گئی۔ مہمانوں اور میزبانوں نے ایک دوسرے کو نوٹوں اور پھولوں کے ہار پہنائے اور ثقافتی اجرک پیش کی گئی۔

عوام کی دلچسپی

’’جے ایف 17 تھنڈر‘‘بیل کو دیکھنے کے لیے شہری دُور دُور سے آ رہے تھے اور  بیل اس کے ساتھ سیلفیاں بنا کر خوشی کا اظہار کررہے تھے۔ یہ بیل عید الاضحیٰ کے موقع پر عوامی توجہ کا مرکز بن  چکا تھا، جسے سوشل  میڈیا پر بھی شہرت ملی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جے ایف 17 تھنڈر

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا