حج سیزن میں ٹریفک رہنمائی کے لیے 6 انٹرایکٹو نقشے جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 مئی2025ء) سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز برائے ٹریفک امورنے حج کے دوران عازمین کی آسانی کے 6انٹرایکٹو نقشے جاری کر دئیے ہیں، جن کے ذریعے راستوں اور سمتوں کی تفصیلات بآسانی معلوم کی جا سکتی ہیں۔
(جاری ہے)
العربیہ کے مطابق جاری کیے گئے نقشوں میں مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کا نقشہ، مسجد الحرام اور اس کے گرد و نواح کا نقشہ، منیٰ، مزدلفہ اور عرفات کے مخصوص نقشے شامل ہیں۔
حج سکیورٹی فورسزنے حجاج کرام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان نقشوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ اپنے سفری راستے، روانگی، قیام اور واپسی کے اوقات کو بہتر انداز میں ترتیب دے سکیں۔یہ اقدام حج و عمرہ کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے حجاج کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا کرنے اور انہیں اعلیٰ ترین سہولیات فراہم کرنے کے سعودی حکومت کے عزم کا حصہ ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔