فوج کی ہر ممکن مدد کریں گے، وزیرخزانہ کا بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے بھی ریلیف کا اشارہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افواج پاکستان کی ہر ممکن مدد کریں گے، یہ صرف افواج کی نہیں پاکستان کی ضرورت ہے، سول ملٹری تنخواہوں کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
ڈان نیوز کے مطابق اسلام آباد میں تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بھارت نے آئی ایم ایف بورڈ میں قرض پروگرام ڈی ریل کرنےکی کوشش کی، کوشش کی گئی اجلاس نہ ہو اور پاکستان کا ایجنڈا ڈسکس نہ ہو تاہم پاکستان کا کیس میرٹ پر ڈسکس ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف تمام اہداف پورے کیے، اگر پاکستان اہداف پورے نہ کرتا تو مشکل پیش آتی، آئی ایم ایف پروگرام پر عمل جاری رکھیں گے، آئی ایم ایف مشن واپس جا چکا ہے، وفد کے ساتھ تعمیری بات چیت ہوئی ہے، پاکستان کو آئی ایم ایف کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
و زیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ رواں ہفتے ورچوئل بات چیت جاری رہے گی، انہوں نے واضح کیا کہ سول ملٹری تنخواہوں کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کر رہی ہے اور معاشی بہتری کی رفتار پر حیران ہے، تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہاکہ پنشن اصلاحات پر بھی کام کر رہے ہیں، قرضوں میں ادائیگی کا بوجھ کم ہونے کی توقع ہے، دنیا پاکستان کے مائیکرو اکنامک استحکام سے مطمئن ہے، حکومت طویل المدتی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کم کرنے کی کوشش رہے ہیں، بجٹ صرف آمدن اور اخراجات کا نام نہیں اسٹریٹجی بنانا ہوگی، ہمیں معاشی محاذ پر بھی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کررہی ہے اور معاشی بہتری کی رفتار پر حیران ہے جبکہ شرح سود میں نمایاں کمی کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر میں انسانی مداخلت کم ہونے سے شفافیت آئے گی، ٹیکس نظام اور دیگر شعبوں میں اصلاحات لارہے ہیں، تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس جمع کرانےکا عمل آسان بنانا چاہتے ہیں جبکہ پنشن اصلاحات پر بھی کام کر رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ قرضوں میں ادائیگی کا بوجھ کم ہونے کی توقع ہے، دنیا پاکستان کے مائیکرو اکنامک استحکام سے مطمئن ہے، حکومت طویل المدتی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے، جبکہ نجی شعبہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ آئندہ بجٹ ملکی معیشت کے لیے اسٹریٹجک سمت کا تعین کرے گا، بجٹ صرف آمدنی اور اخراجات کا مجموعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں مستقبل کے لیے ایک واضح حکمت عملی بھی شامل ہونی چاہیے، انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ اس بار بجٹ کو زیادہ تذویراتی بنایا جائے۔
وزیر خزانہ نے برآمدات پر مبنی ترقی کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان کی معیشت 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کی اقتصادی بحالی اور میکرو اکنامک استحکام کو تسلیم کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت موجودہ تعمیری اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے گی، جن میں ٹیکس نظام، توانائی کے شعبے، سرکاری اداروں کی اصلاحات اور وفاقی حکومت کی ساخت میں درستی شامل ہیں، تاکہ پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔
ذیابیطس ٹائپ ون میں مبتلا کمسن بچوں کیلئے مفت انسولین،وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’ انسولین کارڈ ‘‘لانچ کر دیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: تنخواہ دار طبقے کے لیے محمد اورنگزیب نے کہا دنیا پاکستان معاشی بہتری آئی ایم ایف پاکستان کی نے کہا کہ انہوں نے رہے ہیں کی کوشش
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز