بھارت کے شہر حیدرآباد میں مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر مس انگلینڈ نے مس ​​ورلڈ کے مقابلے کو خیرباد کہہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: مقابلہ حسن جیتنے والی بھارتی حسینہ ریچل گپتا کا پاک، بھارت تعلقات پرجذباتی نوٹ

بھارتی میڈیا کے مطابق 24 سالہ مس انگلینڈ میلا میگی نے الزام لگایا کہ انہیں حیدرآباد میں قیام کے دوران ہراساں کیا گیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی جس نے برطانیہ اور ہندوستان دونوں میں سخت ردعمل کا اظہار کیا۔

مس انگلینڈ 2024 میگی 7 مئی کو انٹرنیشنل ایونٹ کے لیے حیدرآباد پہنچی تھیں تاہم وہ 16 مئی کو برطانیہ واپس چلی گئیں۔

برطانوی ٹیبلائڈ دی سن کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی ہراسانی کا تذکرکہ کیا اور یہ بھی الزام لگایا کہ مقابلے میں حصہ لینے والوں کو میک اپ میں رہنے اور دن بھر حتیٰ کہ ناشتے کے دوران  بھی بال گاؤن میں رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

یہ تنازعہ اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب میگی نے دعویٰ کیا کہ مقابلہ کرنے والوں کو ان کی مالی مدد کے لیے شکر گزاری کے اظہار کے طور پر درمیانی عمر کے مرد اسپانسرز کے ساتھ گھلنے ملنے کے لیے کہا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں وہاں گئی لیکن ہم سب کو وہاں تماشا دکھانے والے بندروں کی طرح بیٹھنا پڑا۔

مزید پڑھیے: ارجنٹائن کی 60 سالہ خاتون نے مقابلہ حسن جیت کر سب کو حیران کردیا

ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے تلنگانہ کے وزیر اور بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے ایک بیان جاری کیا جس میں مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کی مذمت کی گئی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے لکھا کہ میگی آپ ایک بہت مضبوط خاتون ہیں اور مجھے واقعی افسوس ہے کہ آپ کو ہماری ریاست تلنگانہ میں اس سے گزرنا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں خواتین کا احترام کرنے کا بھرپور کلچر ہے لیکن بدقسمتی سے آپ نے جو تجربہ کیا وہ حقیقی تلنگانہ کی نمائندگی نہیں کرتا۔

وزیر نے کہا کہ ایک بچی کے باپ کے طور پر میری خواہش ہے کہ کسی بھی عورت یا لڑکی کو کبھی بھی اس طرح کے خوفناک تجربات سے نہ گزرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ میں مس انگلینڈ میگی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔

دوسری جانب مس ورلڈ آرگنائزیشن نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے میگی کی رخصتی کی وجہ خاندانی ہنگامی صورتحال کو قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: شوہر نے 7سال کی عمر میں مجھےمس ورلڈ جیتتے ہوئے دیکھا، پریانکا چوپڑا

میگی کی رخصتی نے خوبصورتی کے مقابلوں اور خواتین کے ساتھ ان کے سلوک پر طویل عرصے سے تنقید کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ دریں اثنا اب میگی کے مس انگلینڈ کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہنے والی شارلٹ گرانٹ مس ​​ورلڈ کے فائنل میں انگلینڈ کی نمائندگی کریں گی۔ یہ مقابلہ 31 مئی کو عالمی سطح پر براہ راست نشر ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

حیدرآباد بھارت صوبہ تلنگانہ عالمی مقابلہ حسن مس انگلینڈ میگی مس ورلڈ آرگنائزیشن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: حیدرا باد بھارت صوبہ تلنگانہ عالمی مقابلہ حسن مس انگلینڈ میگی مس ورلڈ آرگنائزیشن مس انگلینڈ مقابلہ حسن کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا