پی پی کی صوبہ بچاؤ تحریک پر پولیس کی شیلنگ فاشزم کی بدترین مثال ہے، امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر انجینئرامیرمقام نے پشاور میں پیپلزپارٹی کی صوبہ بچاؤ تحریک کی ریلی پر پولیس شیلنگ اور لاٹھی چارج کی مذمت کی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے اپنے بیان میں کہا کہ پشاور میں پی پی ریلی پر حملہ قابل مذمت ہے، پرامن سیاسی سرگرمی پر نا اہل صوبائی حکومت کا لاٹھی چارج ناقابل قبول ہے۔
امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی کارکنوں پر شیلنگ فاشزم کی بدترین مثال ہے۔ کرپشن اور نالائقی چھپانے کیلئے جبر کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ صوبائی حکومت سیاسی اختلاف برداشت کرنے کا حوصلہ کھو چکی ہے، تشدد اور آنسو گیس سے آوازیں دب نہیں سکتیں۔
انجنیئر امیر مقام نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کا اصل فاشسٹ چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔