امیر مقام کی پشاورمیں پی پی پی کی ریلی پر حملے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
اسلام آباد: وفاقی وزیر اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا انجینئر امیر مقام نے پشاور میں صوبہ بچاؤ تحریک کے سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ریلی پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ پشاور میں پی پی ریلی پر حملہ قابلِ مذمت ہے۔ پرامن سیاسی سرگرمی پر نا اہل صوبائی حکومت کا لاٹھی چارج ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “خیبرپختونخوا میں سیاسی کارکنوں پر شیلنگ فاشزم کی بدترین مثال ہے۔ کرپشن اور نالائقی چھپانے کے لیے جبر کا سہارا لیا جا رہا ہے۔”ان کا مزید کہنا تھا کہ “صوبائی حکومت سیاسی اختلاف برداشت کرنے کا حوصلہ کھو چکی ہے۔ تشدد اور آنسو گیس سے آوازیں دب نہیں سکتیں۔”وفاقی وزیر نے کہا کہ “پی ٹی آئی حکومت کا اصل فاشسٹ چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔