کرتارپور راہداری بھارتی ہٹ دھرمی کے سبب سونی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
امن کی راہداری کرتارپور بھارتی حکومت کی ضد اور انا کے سبب 20 روز سے بند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سکھ برادری ہمارے سر آنکھوں پر ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز کا کرتارپور کا دورہ
پاک بھارت کشیدگی کے بعد سیز فائر کے باوجود 2 ہفتوں سے بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کو ان کے مقدس ترین مقام دربار صاحب کرتار پور آنے کی اجازت نہیں مل رہی۔
کرتار پور گوردوارہ کے ہیڈ گرنتھی سردار گوبند سنگھ کہتے ہیں ہم اپنے سکھ بھائیوں کے لیے آنکھیں بچھائے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے راہداری کھلی ہے جبکہ پابندی بھارت نے لگائی ہوئی ہے۔
70 سال کی دعاؤں کے بعد سکھوں کو کرتار پور راہداری سے دربار صاحب آکر درشن اور عبادت کا موقع ملا جس پر پابندی لگادی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان نے کرتار پور معاہدے میں 5 سال کی توسیع کردی
2 عالمی جنگوں میں بھی کسی مذہب کے پیروکاروں کو ان کے مقدس مذہبی مقامات پر جانے سے نہیں روکا گیا۔
سکھ برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کرتار پور راہداری کو سیاست اور دشمنی کی بھینٹ نہ چڑھائے اور فوری طور پر کرتار پور راہداری کو کھول دے۔ مزید تفصیل جانیے کرتار پور سے نمائندہ وی نیوز دلشاد شریف کی اس رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت کی ہٹ دھرمی بھارتی ضد کرتار پور راہداری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت کی ہٹ دھرمی بھارتی ضد کرتار پور راہداری کرتار پور راہداری
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔