پاکستان نے مار گرائے رافیل کی فوٹیج بھارتی افسر سے کیسے حاصل کی؟ دلچسپ حقائق سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
پاکستان کی جانب سے بھارت کے مار گرائے رافیل طیارے کی بھارتی ایجنسی کے افسر سے فوٹیج حاصل کرنے کی دلچسپ تفصیلات سامنے آگئیں۔
پاکستان نے 7 مئی کو بھارت کے 3 رافیل سمیت 6 طیارے مار گرائے تھے۔ اس حوالے سے ڈیجیٹل شو ٹاک شاک میں بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی اہم کامیابی سے پردہ اٹھایا گیا۔
صحافی آصف بشیر چوہدری نے بتایا کہ رافیل کو فضا کا شاہین یعنی طاقتور جہاز کہا جاتا ہے اور یہ آج تک گرا ہی نہیں تھا، اگر اس کی فوٹیج نہ ملتی تو شاید اس معرکے کا لطف نہ آتا۔
بھارت کا چھٹا گرنے والا طیارہ میراج 2000 ہے: ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت ایسا کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا، امید کرتے ہیں ایسا وقت نہ آئے لیکن آیا تو دنیا اقدامات دیکھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی رافیل جہاں پر گرا وہاں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیر لیا اور عام عوام کو وہاں جانے سے روک دیا، بھارت سے ملنے والی فیلڈ انٹیلی جنس نے بتایا کہ بھارتی ایجنسی کے فلاں رینک کے افسر کے پاس رافیل طیارے کی فوٹیج ہے جو حادثے کے مقام پر بنائی ہے، اس کا نمبر بھی دیا گیا۔
صحافی آصف بشیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بتایا گیا تو ہمارے ایک افسر نے اُس بھارتی افسر کو کال کی اور کہا کہ میں انٹرنیشنل میڈیا کا نمائندہ ہوں اور آپ سے فوٹیج اپنے ادارے کیلئے لینا چاہتا ہوں، ہمارے افسر کا اندھیرے میں پھینکا ہوا تیر 100 فیصد نشانے پر لگا اور بھارتی افسر نے فوٹیج کے بدلے پیسوں کی ڈیمانڈ کی جس پر انہیں کہا گیا کہ اکاؤنٹ نمبر دیں اس پر پیسے بھیج دیتا ہوں، انہوں نے اکاؤنٹ دیا تو اس پر پیسے بھیجے گئے اور فوٹیج بھی دیے گئے مطلوبہ نمبر پر مل گئی۔
انڈین ایئر فورس نے رافیل کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا جواب دینے اور کروز میزائل سے زمین پر حملوں کے ٹاسک دیے تھے۔ یہ
انہوں نے کہاکہ بھارتی افسر نے فوٹیج کے بدلے 50 ہزار بھارتی روپے مانگے تھے جو بغیر کسی بھاؤ تاؤ کے اسے دے دیے گئے، افسر نے کہا کہ آپ اس کی گارنٹی دیں کہ یہ فوٹیج اصلی ہوگی، اس نے کہا کہ پیسے دیں پھر وہ نمبر مطلوبہ پر مل گئی، یہ فوٹیج ایسی تھی جس کو ہم نے وائرل کیا اور دنیا کو ماننا پڑا کہ رافیل کو گرا دیا۔
صحافی آصف بشیر کا کہنا تھا کہ یہ موقع پر بنائی گئی فوٹیج تھی اور اسی فوٹیج کے اندر رافیل کا نشان بنا ہوا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رافیل کا ہی ملبہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بھارتی افسر کہ بھارت افسر نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔