پاکستان بار ہا یہ واضح کر چکا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے، حال ہی میں سانحہ جعفر ایکسپریس اور خضدار میں اسکول بس پر ہونے والے حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد بھی پاکستان کی جانب سے سامنے لائے گئے ہیں۔ تاہم دشمن باز نہیں آرہا اور اب معصوم ذہنوں پر وار کرکے پاکستان کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے، جس کے چشم کشا حقائق سامنے آگئے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد دشمن شکست کے زخم چاٹ رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اس حوالے سے واضح کہہ چکے ہیں کہ اب انڈیا اپنی پراکسیز کے ذریعے متحرک ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں فتنۃ الخوارج کی نام نہاد شریعت کا پول کھل گیا، کان کنی کے کاروبار پر 5 فیصد بھتہ طلب

پاکستان نے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کرانے کا نوٹس لیا جائے۔

ملک بھر خصوصاً صوبہ بلوچستان میں بھارت کے حمایت یافتہ دہشتگرد متحرک ہو چکے ہیں، اور خضدار میں ہونے والا دہشتگرد حملہ اسی کی ایک کڑی ہے، جس میں معصوم طلبا و طالبات کو نشانہ بنایا گیا۔

’بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے لگا‘

بھارت جہاں براہِ راست پاکستان میں دہشتگردی کروا رہا ہے وہیں عوام کے دلوں میں پاکستانی افواج اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے بھی متحرک ہے اور میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کو واضح الفاظ میں بھارت کی پراکسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق بھارت اور اس کی پراکسیز کی جانب سے بلوچستان کی ایک نابالغ لڑکی فاطمہ بلوچ جس کی عمر محض 12 سال ہے، کو ریاستی اداروں کے خلاف لانچ کیا ہے۔

’نابالغ فاطمہ بلوچ کے ’پلانٹڈ‘ بیانات کو بھارت نواز اکاؤنٹس سے شیئر کیا جاتا ہے‘

ذرائع نے بتایا کہ نابالغ فاطمہ بلوچ کی جانب سے ریاست اور اداروں کے خلاف جو بیان دلوائے جاتے ہیں وہ بھارت نواز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور بلوچ گمنام اکاؤنٹس پر شیئر کیے جاتے ہیں، اور پھر کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بھارت اور اس کی پراکسیز کی جانب سے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرنے کا مقصد پاکستان کا امیج دنیا میں خراب کرنا، اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی حمایت حاصل کرنا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ نابالغ بچی کو ورغلا کر پاکستانی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرانے سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی عوامی حقوق کے نام پر دشمن کی آلہ کار ہے۔

’بھارت اور اس کی پراکسیز کا مقصد بچوں کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف زہر گھولنا ہے‘

سرکاری ذرائع نے کہاکہ ان عناصر کا مقصد بچوں کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف زہر گھولنا ہے تاکہ ملک کو کمزور کیا جا سکے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بھارتی پراکسی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کی ان کی جانب سے مذمت نہیں کی جاتی۔

یہ بھی پڑھیں بھارتی انتہاپسندوں کا بلوچستان میں مداخلت کا بڑا ثبوت سامنے آگیا

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت یہ عزم کر چکی ہے کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائےگا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حال ہی میں اپنے ایک خطاب کے دوران کہا تھا کہ تم 1500 بندے پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، جو دہشتگردوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے سامنے نہیں جھکے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارتی پراکسیز بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی بھارتی دہشتگردی پاکستان کے خلاف نفرت حقائق آشکار ریاستی ادارے فتنہ الہندوستان نابالغ فاطمہ بلوچ لانچ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی پراکسیز بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی بھارتی دہشتگردی پاکستان کے خلاف نفرت حقائق ا شکار ریاستی ادارے فتنہ الہندوستان نابالغ فاطمہ بلوچ لانچ وی نیوز نابالغ فاطمہ بلوچ پاکستان کے خلاف اداروں کے خلاف ہے کہ پاکستان کے خلاف نفرت پاکستان میں کی جانب سے ہونے والی میں بھارت میں ہونے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟