بھارتی پراکسیز نے نابالغ فاطمہ بلوچ کو پاکستان کے خلاف لانچ کردیا، حقائق آشکار
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
پاکستان بار ہا یہ واضح کر چکا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے، حال ہی میں سانحہ جعفر ایکسپریس اور خضدار میں اسکول بس پر ہونے والے حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد بھی پاکستان کی جانب سے سامنے لائے گئے ہیں۔ تاہم دشمن باز نہیں آرہا اور اب معصوم ذہنوں پر وار کرکے پاکستان کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے، جس کے چشم کشا حقائق سامنے آگئے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد دشمن شکست کے زخم چاٹ رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اس حوالے سے واضح کہہ چکے ہیں کہ اب انڈیا اپنی پراکسیز کے ذریعے متحرک ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں فتنۃ الخوارج کی نام نہاد شریعت کا پول کھل گیا، کان کنی کے کاروبار پر 5 فیصد بھتہ طلب
پاکستان نے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کرانے کا نوٹس لیا جائے۔
ملک بھر خصوصاً صوبہ بلوچستان میں بھارت کے حمایت یافتہ دہشتگرد متحرک ہو چکے ہیں، اور خضدار میں ہونے والا دہشتگرد حملہ اسی کی ایک کڑی ہے، جس میں معصوم طلبا و طالبات کو نشانہ بنایا گیا۔
’بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے لگا‘بھارت جہاں براہِ راست پاکستان میں دہشتگردی کروا رہا ہے وہیں عوام کے دلوں میں پاکستانی افواج اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے بھی متحرک ہے اور میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔
پاک فوج کے ترجمان نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کو واضح الفاظ میں بھارت کی پراکسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بھارت اور اس کی پراکسیز کی جانب سے بلوچستان کی ایک نابالغ لڑکی فاطمہ بلوچ جس کی عمر محض 12 سال ہے، کو ریاستی اداروں کے خلاف لانچ کیا ہے۔
’نابالغ فاطمہ بلوچ کے ’پلانٹڈ‘ بیانات کو بھارت نواز اکاؤنٹس سے شیئر کیا جاتا ہے‘ذرائع نے بتایا کہ نابالغ فاطمہ بلوچ کی جانب سے ریاست اور اداروں کے خلاف جو بیان دلوائے جاتے ہیں وہ بھارت نواز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور بلوچ گمنام اکاؤنٹس پر شیئر کیے جاتے ہیں، اور پھر کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بھارت اور اس کی پراکسیز کی جانب سے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرنے کا مقصد پاکستان کا امیج دنیا میں خراب کرنا، اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی حمایت حاصل کرنا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ نابالغ بچی کو ورغلا کر پاکستانی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرانے سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی عوامی حقوق کے نام پر دشمن کی آلہ کار ہے۔
’بھارت اور اس کی پراکسیز کا مقصد بچوں کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف زہر گھولنا ہے‘سرکاری ذرائع نے کہاکہ ان عناصر کا مقصد بچوں کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف زہر گھولنا ہے تاکہ ملک کو کمزور کیا جا سکے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بھارتی پراکسی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کی ان کی جانب سے مذمت نہیں کی جاتی۔
یہ بھی پڑھیں بھارتی انتہاپسندوں کا بلوچستان میں مداخلت کا بڑا ثبوت سامنے آگیا
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت یہ عزم کر چکی ہے کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائےگا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حال ہی میں اپنے ایک خطاب کے دوران کہا تھا کہ تم 1500 بندے پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، جو دہشتگردوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے سامنے نہیں جھکے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارتی پراکسیز بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی بھارتی دہشتگردی پاکستان کے خلاف نفرت حقائق آشکار ریاستی ادارے فتنہ الہندوستان نابالغ فاطمہ بلوچ لانچ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی پراکسیز بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی بھارتی دہشتگردی پاکستان کے خلاف نفرت حقائق ا شکار ریاستی ادارے فتنہ الہندوستان نابالغ فاطمہ بلوچ لانچ وی نیوز نابالغ فاطمہ بلوچ پاکستان کے خلاف اداروں کے خلاف ہے کہ پاکستان کے خلاف نفرت پاکستان میں کی جانب سے ہونے والی میں بھارت میں ہونے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔