انسانی حقوق کے کارکنوں کو یکطرفہ طور پر دہشتگرد قرار دینے سے گریز کیا جائے، فرحت اللہ بابر
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ سمیت ان کی پارٹی یا کسی بھی شخص کو بغیر ثبوت اور عدالتی کارروائی کے بغیر ’دہشتگرد‘ قرار دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات ’انتہائی تشویشناک‘ ہیں اور یہ ’بیک فائر‘ ہوسکتا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پیپلز پارٹی کی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ فرحت اللہ بابر نے یہ ردعمل اس وقت دیا جب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حالیہ پریس کانفرنس میں بلوچ یکجہتی کمیٹی اور ماہ رنگ بلوچ پر تنقید کی تھی اور میڈیا سے اس گروپ اور اس کے ارکان کو ’بے نقاب‘ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ یہ گروہ انسانی حقوق اور لاپتا افراد کے بارے میں بات کرتا ہے لیکن جب مسلح افواج دہشت گردوں کو ختم کرتی ہیں اور ڈی این اے سے ان کی شناخت کرتی ہیں، تو ان میں سے بہت سے افراد وہی نکلتے ہیں جو لاپتا افراد کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔
انہوں نے جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ کے واقعے کا بھی ذکر کیا، جس میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے 400 سے زائد افراد کو یرغمال بنایا تھا۔
ان کا کہنا تھا ’معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا لیکن یہ ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی والے کون ہوتے ہیں جو دہشت گردوں کی لاشوں کے دعوے کرتے ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بی وائے سی دہشت گردی کی پراکسی ہے، دہشت گردوں اور ان کی پراکسیوں سے وہی سلوک کیا جانا چاہیے جو دنیا کی کوئی بھی قوم کرتی ہے۔
ہفتہ کے روز ایکس پر ایک پوسٹ میں فرحت اللہ بابر نے لکھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) یا کسی بھی فرد یا گروہ کو یکطرفہ طور پر دہشت گرد قرار دینا ’انتہائی تشویشناک‘ ہے اور ’بیک فائر‘ ہوسکتا ہے۔
اگرچہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں بی وائے سی شامل نہیں ہے لیکن ماہ رنگ بلوچ ، جو مارچ سے بعض بی وائے سی ارکان کے ساتھ قید ہیں، کو نیکٹا کی ’مشکوک افراد‘ کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
حکومت کا الزام ہے کہ وہ جعفر ایکسپریس حملہ آوروں کی لاشوں کا دعویٰ کرنے اور عوام کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
گرفتاری سے ایک روز قبل مہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ارکان کو کوئٹہ میں ایک مظاہرے کے دوران مبینہ جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پولیس کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔
Declaring Mahrang Baloch , BYC, or anyone as terrorist unilaterally & without evidence, without trial, is extremely problematic.
— Farhatullah Babar (@FarhatullahB) May 24, 2025
ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات کے ردعمل میں ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے اتوار کو ایکس پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما کی جانب سے ایک پوسٹ کی۔
جس میں انہوں نے لکھا ’ہماری جدوجہد پرامن، اصولی اور آفاقی انسانی حقوق کی اقدار پر مبنی ہے جب کہ میں نے ہمیشہ ہر قسم کے تشدد کی مذمت کی ہے، چاہے وہ ریاستی ہو یا غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ہو‘۔
ماہ رنگ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پریس کانفرنس کو ’غلط انداز میں استعمال‘ کیا گیا، حالانکہ مارچ میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران کسی بھی قسم کے تشدد کی حمایت نہیں کی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا ’ڈی جی آئی ایس پی آر کے تازہ ترین الزامات کے جواب میں، میرا سوال ہے: ثبوت کہاں ہے‘؟
خیال رہے کہ اپریل میں ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بی وائے سی رہنماؤں نے جیل عملے کی جانب سے مبینہ ’تشدد‘ اور کارکن بیبو بلوچ کو ضلعی جیل پشین منتقل کرنے کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔
نادیہ بلوچ نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک خط لکھ کر اپنی بہن اور دیگر گروہ کے رہنماؤں کے ساتھ جیل میں مبینہ ناروا سلوک پر ’فوری مداخلت‘ کی درخواست کی تھی۔
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلوچ یکجہتی کمیٹی فرحت اللہ بابر آئی ایس پی آر ماہ رنگ بلوچ بی وائے سی کی تھی
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت