قومی ہاکی ٹیم کی حق تلفی منظر عام پر آگئی، کھلاڑی اب تک ڈیلی الاؤنس کے منتظر
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم نے عالمی سطح پر فائنل تک رسائی حاصل کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کیا، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان قومی ہیروز کو آج تک ان کا حق نہیں مل سکا۔
ملائیشیا میں ہونے والے ایف آئی ایچ ہاکی نیشنز کپ کے فائنل کو دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن کھلاڑی اپنی میچ فیس اور یومیہ الاؤنسز کے منتظر ہیں۔
نیوزی لینڈ نے فائنل میں پاکستان کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی، لیکن ہمارے کھلاڑی اب تک مالی معاونت کی راہ تک رہے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، ان کھلاڑیوں کو چاہے ملکی میدانوں میں کھیلنا ہو یا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنی ہو، یومیہ صرف 30 ہزار روپے میچ الاؤنس دیا جاتا ہے، جو ان کی محنت اور قربانیوں کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔
صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک اس وقت ہو جاتی ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ ٹریننگ کیمپ کا الاؤنس اس رقم سے بھی کم ہے، جبکہ کھلاڑیوں کو کسی قسم کا سینٹرل کنٹریکٹ یا اضافی مالی تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔ تین ٹریننگ کیمپوں کی ادائیگیاں بھی تاحال زیر التوا ہیں، جس نے ان نوجوان کھلاڑیوں کی امیدوں کو مزید کمزور کردیا ہے۔
قریبی ذرائع کے مطابق یہ رویہ ان قومی کھلاڑیوں کے ساتھ سراسر ناانصافی کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم واقعی ہاکی کو دوبارہ اس کا کھویا ہوا مقام دلانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان نوجوان کھلاڑیوں کی محنت کی قدر کرنی ہوگی اور ان کے مالی مسائل کا فوری حل نکالنا ہوگا۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ تعریف صرف زبانی جمع خرچ سے نہیں ہوتی، بلکہ وعدے پورے کرنے سے ہوتی ہے۔ یہ کھلاڑی اپنے خون اور پسینے سے ملک کا نام روشن کرتے ہیں، لہذا ان کا حق ہے کہ ان کی محنت کا صلہ بروقت دیا جائے اور انہیں سرکاری سطح پر مکمل تعاون اور تحفظ فراہم کیا جائے، تاکہ وہ بغیر کسی پریشانی کے ملک کے لیے مزید فتوحات حاصل کر سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔