حمیرا اصغر کے والدین نہیں آتے تو مجھے تدفین کی اجازت دی جائے، اداکارہ سونیا حسین
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں اپنے فلیٹ سے مردہ حالت میں ملنے والی معروف اداکارہ حمیرا اصغر کے لواحقین نے گزشتہ روز بیٹی کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اہلِ خانہ کی جانب سے ان کی لاش وصول کرنے سے انکار کے بعد اداکارہ سونیا حسین سمیت کئی افراد نے ان کی تدفین کی ذمہ داری اٹھانے کی اجازت مانگی۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹی کی لاش لینے نہیں آؤں گا، حمیرا اصغر کے والد نے ایسا کیوں کہا؟
فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنے ویڈیو پیغام میں اداکارہ سونیا حسین نے کہا کہ حمیرا کے اہلخانہ اس کی میت لینے نہیں آ رہے اور نہ ہی ان کی تدفین کی جا رہی ہے۔ اگر وہ کل تک نہیں آتے تو مجھے تدفین کرنے کی اجازت دی جائے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں اس پر کیسے ردعمل دوں، انہوں نے حمیرا کے والدین سے سوال کیا کہ ایسی کیا حق تلافی ہو گئی ہے کہ آپ اس کی آخری رسومات کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ ماں باپ کے ہوتے ہوئے میت کی تدفین نہیں کی جارہی یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔
سونیا حسین نے کہا کہ ایک دن انتظار کریں اگر حمیرا اصغر کے والدین نہیں آتے تو بطور مسلمان اور انسان وہ میری بہن ہے مجھے یہ ذمہ داری دیں کہ میں اس کی تدفین کروا سکوں۔
View this post on Instagram
A post shared by Sonya Hussaiyn (@sonyahussyn)
انہوں نے مزید کہا کہ اپنے آس پاس لوگوں سے حال احوال پوچھیں ان سے رابطے میں رہیں، ان کو ایک فون کر کے پوچھ لیں کہ آپ ٹھیک ہٰں تاکہ آج کے بعد اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔ اور عائشہ خان یا حمیرا اصغر جیسا کوئی واقعہ ہمارے سامنے نہ آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقوق اللہ تب تک قبول نہیں ہوں گے جب تک آپ حقوق العباد نہیں نبھائیں گے۔
سونیا کی ویڈیو اپنی اسٹوری پر شیئر کر کے یاسر حسین نے لکھا کہ سونیا حسین کو یہ موقع ملنا چاہیے، ورنہ میں بھی حاضر ہوں۔
View this post on Instagram
A post shared by DIVA Magazine Pakistan (@divamagazinepakistan)
واضح رہے کہ حمیرا اصغر کی لاش منگل کے روز کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس کے ایک فلیٹ سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے ان کے اہلخانہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے میت وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا.
میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ کے بہنوئی نے حکام سے رابطہ کر کے میت کی حوالگی کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حمیرا اصغر کے والد اچانک انتقال کی خبر سن کر شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئے تھے، اسی باعث ابتدا میں میت وصول کرنے سے انکار کیا گیا، تاہم اب وہ راضی ہو چکے ہیں اور جلد کراچی آ کر میت وصول کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حمیرا اصغر حمیرا اصغر پوسٹ مارٹم حمیرا اصغر لاش حمیرا اصغر والد سونیا حسین یاسر حسین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حمیرا اصغر پوسٹ مارٹم حمیرا اصغر لاش حمیرا اصغر والد سونیا حسین یاسر حسین وصول کرنے سے انکار حمیرا اصغر کے والد کا کہنا تھا کہ سونیا حسین انہوں نے میت وصول کی تدفین نہیں ا کی لاش
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔