ماڈل حمیرا اصغر کا انتقال کب اور کیسے ہوا؟ پولیس کا اہم بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک فلیٹ سے ملنے والی اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش 6 ماہ سے بھی زائد پرانی نکلی ہے۔
ایس ایس پی ساؤتھ نے اب تک ہونے والی تحقیقات کی روشنی میں امکان ظاہر کیا ہے کہ اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر علی کی لاش ممکنہ طور پر 6 ماہ سے بھی زائد پرانی ہے جبکہ ایک پولیس اہلکار نے موت کی ممکنہ وجہ فوڈ پوائزننگ قرار دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹی کی لاش لینے نہیں آؤں گا، حمیرا اصغر کے والد نے ایسا کیوں کہا؟
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ حمیرا نے آخری بار مئی 2024 میں کرایہ ادا کیا تھا۔ کےالیکٹرک نے اکتوبر 2024 کے آخر میں بل ادا نہ ہونے پر بجلی منقطع کر دی تھی۔ فریج میں موجود کھانے کی اشیاء کی ایکسپائری ڈیٹ بھی اکتوبر 2024 کی تھی، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کی موت اسی عرصے میں ہوئی ہوگی۔
اگرچہ ایک ابتدائی میڈیکل لیگل رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، تاہم موت کی اصل وجہ تاحال تصدیق شدہ نہیں۔ پولیس حکام نے فوڈ پوائزننگ کو ممکنہ وجہ قرار دیا ہے۔
حکام نے پڑوسیوں کے بیانات بھی قلمبند کیے ہیں، جنہوں نے ماضی میں اداکارہ کے اپارٹمنٹ سے بلند چیخوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر حمیرا ڈپریشن کا شکار تھیں، لیکن اس کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’حمیرا کی موت اس جھوٹی دنیا کا چہرہ ہے جہاں’فالوورز‘ ہوتے ہیں دوست نہیں‘
واضح رہے کہ حمیرا اصغر کی لاش منگل کے روز کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس کے ایک فلیٹ سے برآمد ہوئی۔ حمیرا اصغر کا تعلق لاہور سے تھا، لیکن وہ کراچی میں رہائش پذیر تھیں۔ انہوں نے یہ فلیٹ 2018 میں کرائے پر لیا تھا۔ تاہم 2024 سے کرایہ ادا نہ کرنے پر مالک مکان نے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر رکھی تھی۔
عدالتی حکم پر جب پولیس فلیٹ خالی کرانے پہنچی تو دروازہ بند تھا، جس پر دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونا پڑا، جہاں اداکارہ کی لاش موجود تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حمیرا اصغر حمیرا اصغر پوسٹ مارٹم حمیرا اصغر لاش حمیرا اصغر موت حمیرا اصغر والد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حمیرا اصغر پوسٹ مارٹم حمیرا اصغر لاش حمیرا اصغر موت حمیرا اصغر والد کی لاش
پڑھیں:
جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
کوئٹہ(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ سے کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور پارٹی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق حافظ حمداللہ کے صاحبزادے حافظ خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا موبائل فون بند آ رہا ہے اور ان کے ساتھ موجود ساتھیوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ آج بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گئے تھے، تاہم چند گھنٹوں سے ان سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں میں تشویش پیدا ہوئی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت سے رابطہ کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت نے مولانا عبدالغفور حیدری کو آگاہ کیا کہ حافظ حمداللہ محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ان کی خیریت سے متعلق کوئی تشویش کی بات نہیں۔
واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے حافظ حمداللہ کی جلد از جلد عوامی سطح پر موجودگی اور رابطے کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں، تاہم انتظامیہ کے بیان کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو گئی ہے۔
مزید تفصیلات اور سرکاری وضاحت سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا