کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 خیابان اتحاد میں واقع فلیٹ سے ملنے والی اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش تقریباً 9 ماہ پرانی ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد کیس معمہ بن گیا اور کئی سوالات کھڑے ہوگئے، پولیس نے رات گئے فلیٹ کو ڈی سیل کرکے مزید شواہد اکھٹا کیے لیکن کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوسکی، آج لواحقین کا لاش وصول کرنے کا امکان ہے لیکن تاحال کوئی بھی شخص کراچی نہیں پہنچ سکا۔
ادکارہ حمیرہ اصغر علی کی موت معمہ بن گئی، لاش 6 ماہ نہیں تقریباً 9 ماہ پرانی نکلی، اداکارہ حمیرا کے والد اصغر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا گیا، حمیرا کے گھر والے میت وصول کرنے پر رضا مند ہوگئے، جلد لاہور سے کراچی آکر میت وصول کی جائے گی۔
ڈیفنس فیز 6 میں 8 جولائی بروز منگل کے روز فلیٹ سے حمیرا اصغر کی لاش ملی تھی، کورٹ کے احکامات پر بیلف گھر خالی کرانے پہنچا جہاں حمیرا کی لاش کو پایا گیا۔
پولیس کی جانب سے فلیٹ کو مکمل طور پر سرچ کیا گیا ہے، فرج میں رکھے گئے تمام کھانے اکتوبر 2024 میعاد تک کے تھے، ماڈل حمیرہ اصغر نے بجلی کا بل بھی ادا نہیں کیا تھا۔
کے الیکٹرک کی جانب سے اکتوبر کے آخر میں ہی بجلی بھی کاٹ دی گئی تھی، فلیٹ میں کہیں پر بھی تازہ خون کے نشانات نہیں ملے، لاش اتنی پرانی تھی کہ گھٹنوں کے جوڑ بھی گل چکے تھے تاحال موت کی وجہ سامنے نہیں آسکی۔
پولیس حکام کے مطابق حمیرا اصغر نے آخری مرتبہ مئی 2024 میں کرایہ ادا کیا تھا، کال ریکارڈ بھی 6 ماہ سے زائد پرانا ہے جبکہ سال 2024 اکتوبر میں حمیرہ نے آخری کال آن لائن ٹیکسی ڈرائیور سے کی تھی۔
دوسری جانب صوبائی وزیر ثقافت ذوالفقارشاہ نے حمیرا اصغر کی تدفین کرانے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ کا ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رابطہ کیا ہے۔
مرحومہ کے ورثا لاش وصول نہیں کرتے تو محکمہ ثقافت حمیرا کا وارث ہوگا، صوبائی وزیر نے ڈائریکٹر جنرل کلچر کو معاملے پر فوکل پرسن مقرر کردیا جبکہ اس حوالے سے سیکرٹری ثقافت سندھ نے ڈی آئی جی ساؤتھ کو حمیرا اصغر کی لاش حوالگی کے لیے خط لکھ دیا ہے۔
صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت کا کہنا ہے کہ حمیرا لاوارث نہیں سندھ حکومت کا محکمہ ثقافت وارث ہے، تدفین سمیت تمام مراحل محکمہ ثقافت کے ذمہ ہوں گے تاہم ہماری پہلی کوشش ہے کہ والدین راضی ہوں اورلاش وصول کریں۔

Post Views: 8.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: حمیرا اصغر کی لاش

پڑھیں:

بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز  جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔

صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔

شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔

استعفے کی وجہ کیا ہے؟

صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

آئینی طریقہ کار

صدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔

آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔

شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگی

شیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔

گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔

موجودہ حکومت پر دباؤ

شیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔

اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔

2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے

76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین

متعلقہ مضامین

  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف