خیبر پختونخوا میں روشن مستقبل اور سہارا کارڈ کا اجرا ، یتیموں ، بیواؤں کو ماہانہ 5 ہزار روپے ملیں گے
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبر پختونخوا حکومت نے یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کے پروگرام پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق سہارا کارڈ کے اجرا کی تقریب میں وزیر اعلیٰ علی امن گنڈاپورنے اعلان کیا کہ یتیم بچوں اور بیواؤں کو مالی معاونت کی فراہمی کے لیے روشن مستقبل کارڈ اور سہارا کارڈ کا باضابطہ اجرا کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے یتیم بچوں میں روشن مستقبل جبکہ بیواؤں میں سہارا کارڈ تقسیم کیے۔ روشن مستقبل کارڈ کے ذریعے 5 سے 16 سال تک کی عمر کے یتیم بچوں کو ماہانہ 5 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ ابتدائی طور پر روشن مستقبل کارڈ سے 9 ہزار یتیم بچے مستفید ہوں گے۔
ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا
سہارا کارڈ کے تحت 45 سال اور اس سے زیادہ عمر کی بیواؤں کو ماہانہ 5 ہزار روپے ملیں گے۔ فی الوقت 15 ہزار بیوائیں سہارا کارڈ سے مستفید ہوں گی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سہارا کارڈ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔